خطبات محمود (جلد 21) — Page 12
1940 12 خطبات محمود مسئلہ کے سمجھنے کی قابلیت کم رکھتے تھے اور غلط خیالات اور غلط عقائد نے لوگوں کے دماغوں پر ایسا قبضہ جمالیا تھا کہ وہ اس عقیدہ میں کسی اصلاح کے لئے تیار نہ تھے۔باوجو د دنیا کی مخالفت کے پچاس سالہ عرصہ میں برابر دنیا میں پھیلتا چلا گیا ہے اور جس عقیدہ کے متعلق لوگ یہ خیال کرتے تھے کہ وہ کسی صورت میں تسلیم کئے جانے کے قابل نہیں وہ دنیا کے ہر گوشہ میں تسلیم کیا جانے لگا ہے اور آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا کے تمام بر اعظموں میں اس عقیدہ کے ماننے والے لوگ موجود ہیں۔اور دوسرے اس وجہ سے اس جلسہ کو ایک خوشی کا جلسہ قرار دیا گیا کہ وہ خلافت جو تابع نبوت ہوتی ہے اس کے متعلق بھی لوگوں میں ایسے ہی خیالات موجود تھے اور لوگ سمجھتے تھے کہ خلافت کا خیال دنیا میں قائم نہیں رہ سکتا اور اس آزادی اور نام نہاد ڈیماکرسی کی موجودگی میں خلافت دنیا میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔یہ خیال زیادہ تر دوسری خلافت کے شروع میں پیش کیا گیا اور اس پر بہت کچھ زور دیا گیا۔مگر باوجود اس کے گزشتہ پچیس سال میں اللہ تعالیٰ نے خلافت کی عظمت قائم کی اور اس کے دامن سے جو لوگ وابستہ تھے انہیں ہر میدان میں فتح دی اور ان کا قدم ترقی کی طرف بڑھتا چلا گیا۔یہاں تک کہ پچیس سال میں جماعت کہیں کی کہیں پہنچ گئی۔ہماری جماعت کی ترقی اور اس کی رفتار کی تیزی اس امر سے ہی سمجھی جاسکتی ہے کہ آج ہم ایک معمولی جمعہ کے لئے یہاں جمع ہوئے ہیں جس میں کوئی خاص خصوصیت نہیں۔صرف قادیان اور چند ارد گرد کے دیہات کے لوگ شامل ہیں مگر باوجود اس کے اس مسجد میں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کی مسجد سے چار گنے سے بھی زیادہ ہو چکی ہے تمام لوگ بھرے ہوئے ہیں اور ابھی مستورات کے لئے علیحدہ انتظام ہے۔وہ حصہ اس سے قریباً تہائی ہو گا۔اور وہ بھی تمام کا تمام بھر ا ہو ا ہوتا ہے۔حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی کے آخری سال میں جو جلسہ سالانہ ہوا اُس میں جو احمدی شامل ہوئے وہ اس مسجد کے چوتھے حصہ میں سما گئے تھے۔ہمارے دادا کی جو قبر ہے یہ انتہائی اور آخری حد تھی اور میرے بائیں طرف دو تین گز چھوڑ کر جو ستون ہے وہ اس کی ابتدائی حد تھی۔میرے دائیں طرف مسجد کا گل حصہ ، اسی طرح بائیں طرف کا برآمدہ اور قبر سے لے کر مشرق کی طرف کا