خطبات محمود (جلد 21) — Page 128
1940 128 خطبات محمود پس اگر ہم ان طریقوں کو استعمال میں لائیں جن سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہو اور ان کے نتیجہ میں فتح حاصل ہو تو یہ فتح بے شک خوشی کا موجب ہو گی بلکہ ان طریقوں کو استعمال میں لاتے ہوئے اگر شکست بھی ہو جائے تو وہ بھی خوشی کا ہی موجب ہو گی۔بعض دفعہ ایسی شکست عظیم الشان کامیابیوں کا موجب ہو جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ابتدائی زمانہ کا ایک ایسا واقعہ ہے جسے خد اتعالیٰ نے قبول فرمایا بلکہ وہ سلسلہ کی بنیاد کا محرک ہو گیا۔آپ ایک مرتبہ جوانی کے ایام میں بٹالہ تشریف لے گئے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی جو بعد میں آپ کے منقر بن گئے نئے نئے حدیث کا علم پڑھ کر بٹالہ آئے تھے اور نیا نیا جوش تھاوہ ہر مجلس میں حنفیوں کو برابھلا کہتے تھے اور حنفیوں میں بھی ان کے مقابلہ کا بہت جوش تھا مگر ان کا کوئی مولوی ان کے سامنے ٹھہرتا نہیں تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو اتفاق سے بٹالہ تشریف لے گئے تو ایک شخص نے ان سے کسی اختلافی مسئلہ میں بحث کے لئے آپ کو مجبور کیا اور کہا کہ وہ کفر کی باتیں کرتے ہیں اور اسلام کے خلاف عقائد رکھتے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ اچھا چلو دیکھتے ہیں۔چنانچہ آپ تشریف لے گئے ، لوگ بہت جمع تھے اور بڑا ہجوم ہو گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور مولوی محمد حسین صاحب آمنے سامنے بیٹھ گئے۔آپ نے مولوی صاحب سے پوچھا کہ آپ کا کیا دعویٰ ہے؟ مولوی صاحب نے کہا کہ میرا دعویٰ یہ ہے کہ سب سے مقدم قرآن کریم ہے اور اس کے بعد آنحضرت صلی للی ارم کا قول اور اس کے مقابل پر ہم کسی اور انسان کے قول کو نہیں لے سکتے۔آپ نے یہ بات سن کر فرمایا کہ آپ کی یہ بات تو معقول ہے۔اس پر لوگوں نے شور مچا دیا کہ ہار گئے ، ہار گئے۔جو لوگ آپ کو ساتھ لے گئے تھے وہ بڑے غصہ میں آئے کہ آپ نے ہم کو ذلیل کر دیا مگر آپ نے کسی بات کی پرواہ نہ کی اور فرمایا کہ کیا میں یہ کہوں کہ امت کے کسی فرد کا قول محمد مصطفے صلی ال نیم کے قول پر مقدم ہے۔اور اس طرح خاص اللہ تعالیٰ کے لئے بحث کو ترک کر دیا۔رات کو خداوند کریم نے اپنے الہام اور مخاطبت میں اسی ترک بحث کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ “ تیر اخدا تیرے اس سے راضی ہوا اور وہ تجھے بہت برکت دے گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت