خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 129

$ 1940 129 خطبات محمود ڈھونڈیں گے۔” 1 پھر بعد اس کے عالم کشف میں وہ بادشاہ دکھلائے گئے جو گھوڑوں پر سوار تھے۔2 چونکہ آپ نے خالصہ خدا اور اس کے رسول کے لئے انکسار اور تذلل اختیار کیا اس لئے اس محسن مطلق نے نہ چاہا کہ آپ کے اس فعل کو بغیر اجر کے چھوڑے۔تو بعض اوقات شکست زیادہ بہتر ہوتی ہے اس فتح سے جس میں خد اتعالیٰ کی خوشنودی نہ ہو۔یہ بات میں نے پہلے بھی کئی بار کہی ہے اور اب پھر اسے دہرا دیتا ہوں کہ غیر مبائعین کے مقابلہ پر ایسے ذرائع اختیار کرو جو خدا تعالیٰ اور رسول کریم صلی الم کی خوشنودی کا موجب ہوں۔میں نے بار بار سخت کلامی سے روکا ہے۔مجھے سخت کلامی کبھی پسند نہیں خواہ وہ میرے شدید سے شدید مخالف کے متعلق ہی کیوں نہ ہو۔بے شک بعض حقائق کے بیان کرنے میں بعض سخت الفاظ کا استعمال کرنا پڑتا ہے جو دوسرے کے لئے ناگوار ہوتے ہیں مگر ان کے بیان میں بھی جہاں تک ممکن ہو سخت الفاظ سے بچنا چاہیے اور ایسے رنگ میں بات کو بیان نہ کیا جائے کہ دوسر ا سمجھے کہ اس کے دل میں غصہ اور بغض ہے جو یہ نکال رہا ہے۔ایک ہی بات کو سخت الفاظ میں بھی ادا کیا جا سکتا ہے اور اسی کو نرم الفاظ میں بھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک واقعہ سنایا کرتے تھے۔لاہور میں ایک خاندان فقیروں کا مشہور ہے۔ہمارے خاندان کے ساتھ ان کے تعلقات پرانے چلے آتے ہیں۔ہمارے بڑے بھائی خان بہادر مر زا سلطان احمد صاحب مرحوم اور اس خاندان کے آخری رئیس بھائی بھائی بنے ہوئے تھے۔ان کے دادا مہاراجہ رنجیب سنگھ کے وزیر تھے اور وہ بہت بلند پایہ طبیب تھے اور اس وجہ سے بہت اثر رکھتے تھے۔گو اس زمانہ میں مسلمانوں کی حالت اچھی نہ تھی مگر انہیں طب کی وجہ سے اور ذاتی قابلیت کے باعث بہت رسوخ حاصل تھا۔مسلمانوں کو اُس زمانہ میں چونکہ مصائب کا شکار ہونا پڑتا تھا اس لئے جس کسی کو کوئی مصیبت پیش آتی ان کے پاس امداد کے لئے پہنچ جاتا تھا اور آپ ہر ایک کی کچھ نہ کچھ مدد کر دیتے اور جو تھوڑی بہت رقم ممکن ہوتی دے دیتے۔اُس زمانہ میں پیسہ کی بہت قیمت تھی۔روپیہ کا دس دس من غلبہ ملتا تھا۔ایک دفعہ ان کے پاس کوئی محتاج آیا وہ بیٹھے کام کر رہے تھے اور اپنے نوکر سے کہہ دیا کہ