خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 608 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 608

خطبات محمود ۶۰۸ سال ۱۹۳۹ء اور کونسا کام ہے جو اس سے باہر رہ سکتا ہے دنیا میں انسان کو ہزاروں کام ایسے کرنے پڑتے ہیں کی جو اس کے دل کی خواہش کے خلاف ہوتے ہیں لیکن جب وہ اللہ تعالی سے یہ دُعا مانگتا ہے کہ کی اهدنا الصراط الْمُسْتَقِيمَ تو اللہ تعالی کوئی نہ کوئی ایسا جوڑ پیدا کر دیتا ہے کہ جس سے اس کی کامیابی کا رستہ کھل جاتا ہے انسان کو خدا تعالیٰ نے پیدا کر کے اس کے ذمہ مختلف کام لگا دئے ہیں۔بیوی بچوں کی خبر گیری ہے، ماں باپ کی خدمت، رشتہ داروں سے میل جول، تجارت اور کاروبار کی دیکھ بھال وغیرہ کئی قسم کے مشاغل ہیں۔اس کے دل میں اپنی محبت بھی پیدا کی اور پھر اسے مادیات کی طرف لگا دیا اور خود ایسا وراء الوری ہو گیا کہ جہاں انسان پہنچ ہی نہ سکے اب وہ حیران ہے کہ کیا کرے لیکن پھر خود ہی اسے یہ دعا سکھا دی اهدنا الصّراطَ الْمُسْتَقِيم اور جب انسان اللہ تعالی سے یہ دُعا کرتا ہے تو خدا تعالی فرماتا ہے کہ لگاؤ تو ٹیلیفون اس کے دماغ میں اور اس کا ایک سرا ہمارے ہاتھ میں دو چنانچہ جب کبھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کسی تکلیف کے وقت میں اللہ تعالیٰ سے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دُعا فرماتے تو فوراً إِنِّى مَعَ الرَّسُولِ أَقُومُ " کے الہام کا ٹیلیفون لگ جا تا تو بندہ دنیا کا کوئی کام کرے اس دُعا سے باہر نہیں ہو سکتا۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جہاد کے لئے تشریف لے گئے جو لوگ ساتھ جا سکتے تھے وہ گئے مگر نا بینا، معذور اور کمزور لوگ گھروں میں رہے اور ساتھ نہ جاسکے وہ اپنے دلوں میں دکھ محسوس کر رہے تھے اور کہتے تھے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو میدان جہاد میں ہیں اور ہم گھروں میں بیٹھے ہیں مگر دوسری طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھی مجاہدین سے فرمایا کہ تم لوگ بے شک میدانِ جہاد میں تکالیف اٹھا رہے ہو لیکن مدینہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں کہ جو ثواب میں تمہارے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔انہوں نے عرض کیا یا رَسُول اللہ ! یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ کام تو ہم کریں ، تکالیف ہم اٹھائیں اور ثواب ان کو ملے آپ نے فرمایا اپنی معذوری کی وجہ سے شریک نہ ہو سکنے پر ان کے دلوں میں جو تکلیف ہے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو تمہارے ساتھ ملا دیا ہے۔سے تو دیکھو اس دُعا نے کیسا جادو کیا اور کس طرح ان کے لئے بھی ثواب کے رستے کھول دیئے۔اب جو میں خطبہ کے لئے کھڑا ہوا تو مجھے خیال آیا کہ اب نماز کے بعد یہ سب لوگ جو اس وقت کی