خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 609 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 609

خطبات محمود ۶۰۹ سال ۱۹۳۹ء میرے سامنے ہیں اپنے اپنے گھروں کو چلے جائیں گے اور معلوم نہیں اگلے سال تک کون کون زندہ کی رہتا ہے اور پھر کس کس سے ملاقات کا موقع میسر آتا ہے میری ان سے یا انکی مجھ سے پھر ملاقات ہوتی ہے یا نہیں اور اس خیال نے میرے دل میں ایک گھبراہٹ سی پیدا کر دی مگر پھر معا مجھے خیال آیا کہ گھبراہٹ کی کیا بات ہے اور میں نے اھدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ پڑھا تو مجھے اپنے اس درد کا علاج بھی اسی میں مل گیا اور میں نے خیال کیا کہ اگلا جہان ایک ایسا مرکز ہے جس میں ہم پھر مل سکیں گے غرض کوئی درد نہیں جس کا علاج سورۃ فاتحہ میں نہ ہو اور کوئی علم نہیں جو اس سورۃ میں موجود نہ ہو ا سلئے میں احباب جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ بھی اس سورۃ پر غور کرنے کی عادت ڈالیں اور اخلاص سے اسے پڑھا کریں اخلاص کی برکت سے آپ کو بھی وہ گر مل جائے گا جو ساری مشکلات کا حل ہے یہ دولت کا خزانہ ہے جہاں سے میں نے بہت کچھ کچ پایا ہے اور یہ خزانہ میں نے آپ کو دکھا دیا ہے اس کی کنجی اللہ تعالیٰ نے مجھے تو دیدی ہے مگر آپ لوگ خود کوشش کریں اور اسے حاصل کریں اور پھر اس خزانہ سے متمع ہوں یہ ایسا خزانہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوسکتا۔آخر میں اللہ تعالی سے دُعا کرتا ہوں کہ وہ میرے اور آپ کے ساتھ ہو ، میرے غموں کو بھی دور کرے اور آپ کے غموں کو بھی۔وہ میرے لئے بھی اور آپ کے لئے بھی خوشیوں کے سامان پیدا کرے اور ایسا کرے کہ ہمارے غم اور ہماری خوشیاں سب اس کے لئے ہوں۔“ (الفضل ۱۴ /اکتوبر ۱۹۵۹ء) الفاتحة :۷،۶ ۲ تذکرہ صفحه ۴۶۲ ایڈیشن چهارم صحیح بخاری کتاب المغازى باب نزول النبى صلى الله عليه وسلم الحجر