خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 582 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 582

خطبات محمود ۵۸۲ ا سال ۱۹۳۹ء روزہ کے متعلق تو شریعت نے کہہ دیا ہے کہ اگر کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو وہ اُن دنوں کی بجائے کی دوسرے دنوں میں روزہ رکھ لیا کرے اور اگر کوئی کمزوری کی وجہ سے روزہ نہیں رکھتا مگر فدیہ دینے کی طاقت رکھتا ہے تو اُسے شریعت کہتی ہے کہ تم فدیہ دے دیا کرو اور اگر وہ فدیہ دینے کی بھی طاقت نہیں رکھتا اور اُس کی جسمانی حالت ایسی ہے کہ وہ ایک روزہ بھی نہیں رکھ سکتا تو چاہے وہ ساری عمر روزہ نہ رکھے اُس پر کوئی گناہ نہیں۔اسی طرح حج کے متعلق قرآن کریم نے مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا کی شرط عائد کر دی ہے اور مَنِ اسْتَطَاعَ میں صرف یہی شرط نہیں کہ تم تندرست ہو یا تمہارے پاس روپیہ کا فی ہو بلکہ اگر تمہارے پاس حج کے لئے تو روپیہ ہے لیکن تم اپنے بعد اپنے بیوی بچوں کے لئے کوئی انتظام نہیں کر سکتے تب بھی تم پر حج فرض نہیں۔تو استطاعت کا مفہوم صرف اسی قدر نہیں کہ تمہاری اپنی صحت اچھی ہو اور اخراجات کے لئے تمہارے پاس کافی روپیہ ہو بلکہ جن کا گزارہ تمہارے ذمہ ہے تمہارے لئے ضروری ہے کہ تم اُن کا بھی انتظام کر کے جاؤ اور ا گر نہ کر سکو تو تم پر حج فرض نہیں۔اسی طرح جہا د اسلام کے نہایت ہی اہم احکام میں سے ہے اور اس کو اسلام نے اُن اُمور میں سے قرار دیا ہے جو روحانیت کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں مگر جہاد کو ارکانِ اسلام میں اس لئے نہیں رکھا گیا کہ باقی احکام تو ہر زمانہ اور ہر حالت میں قابل عمل ہوتے ہیں مگر جہاد ایک ایسی چیز ہے جس کا اختیار دشمن کے ہاتھ میں ہے ہمارے ہاتھ میں نہیں۔روزہ رکھنا ہمارے اپنے اختیار کی بات ہے، نماز پڑھنا ہمارے اپنے اختیار کی بات ہے، زکوۃ دینا ہمارے اپنے اختیار کی بات ہے اور حج کرنا بھی ہمارے اپنے اختیار کی بات ہے مگر ہمارا یہ اختیار نہیں کہ ہم جب جی چاہے دُشمن سے جہاد کر سکیں کیونکہ جہاد اسی وقت جائز ہوتا ہے جب دشمن حملہ کرے اور اسلام کو مٹانے کے لئے کرے۔تو چونکہ جہاد کا اختیار دشمن کے ہاتھ میں ہے اس لئے اسلام نے اسے ان ارکانِ اسلام میں نہیں رکھا جن کی پابندی اُمت پر ہر وقت فرض ہے مگر جس وقت جہاد فرض کی ہو جاتا ہے اُس وقت وہ ویسی ہی اہمیت اختیار کر لیتا ہے جیسے نماز وغیرہ بلکہ بعض اوقات اس کی اہمیت اس سے بھی بڑھ جاتی ہے۔چنانچہ جہاد کے موقع پر جب خطرات زیادہ ہوتے ہیں ، اسلامی شریعت نے نمازیں چھوٹی کر دی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق