خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 581 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 581

خطبات محمود ۵۸۱ سال ۱۹۳۹ء لکڑیوں کے گٹھے رکھوں اور ان لوگوں کے مکانوں کو جا کر آگ لگا دوں جو عشاء اور فجر کی نماز پڑھنے مسجد میں نہیں آتے لیے اتنا رحیم و کریم انسان جو کسی کی ذراسی تکلیف بھی برداشت نہیں کر سکتا تھا وہ اِس بارہ میں اتنی سختی کرتا ہے کہ چاہتا ہے اُن لوگوں کے مکانوں کو آگ لگا دے جو عشاء اور فجر کی نماز پڑھنے مسجد میں نہیں آتے کیونکہ جب کوئی مسلمان ہوتا ہے تو اپنی مرضی سے ہوتا ہے اور جب وہ اپنی مرضی سے اسلام کو قبول کرنے کے بعد اسلامی قیود کی پابندی نہیں کرتا اور نماز پڑھنے مسجد میں نہیں آتا تو وہ سزا کا مستحق ہے مگر اتنے اہم فریضہ کے متعلق بھی اسلام اجازت دیتا ہے کہ اگر کوئی شخص مسجد میں بوجہ معذوری نہیں آسکتا تو وہ گھر میں نماز پڑھ لے۔اسی طرح یہ اجازت دی کہ اگر کوئی شخص گھر میں کھڑے ہو کر نماز نہیں پڑھ سکتا تو وہ بیٹھ کر پڑھ لے۔الگ الگ نہیں پڑھ سکتا تو جمع کر کے پڑھ لے۔چنانچہ چار نمازیں ایسی ہیں جو دو دو جمع ہو سکتی ہیں۔ظہر عصر کے ساتھ اور مغرب عشاء کے ساتھ۔صرف صبح کی نماز ایسی ہے جو کسی اور نماز کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتی۔پھر اگر کوئی بیٹھ کر بھی نماز نہیں پڑھ سکتا تو اُسے شریعت اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ وہ لیٹے لیٹے اشاروں سے نماز پڑھ لے اور اگر اشاروں سے بھی نما زنہیں پڑھ سکتا تو شریعت اُسے اجازت دیتی ہے کہ وہ دل میں نماز پڑھ لے اور اگر وہ بے ہوش ہو جاتا ہے اور دل میں بھی نماز نہیں پڑھ سکتا تو اُس پر شریعت کوئی حکم ہی عائد نہیں کرتی اور کہتی ہے کہ اسے نماز معاف ہے۔تو دیکھو شریعت نے کس قدر نرمی کر دی حالانکہ یہ عبادت اس قد را ہم ہے کہ اُس کو بلا وجہ چھوڑ دینے والے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک اس بات کے مستحق ہیں کہ اُن کے گھروں کو آگ لگا دی جائے۔اسی طرح زکوۃ کا حکم ہے۔یہ حکم بھی صرف طاقت رکھنے والوں کے لئے ہے۔ان کے لئے نہیں جو غریب اور کنگال ہیں۔اب اگر کوئی شخص کہے کہ میں زکوۃ نہیں دے سکتا تو وہ احمق ہوگا کیونکہ جو شخص طاقت رکھنے کے باوجود کہتا ہے کہ مجھ میں زکوۃ کی دینے کی طاقت نہیں وہ ویسی ہی بات کرتا ہے جیسے کوئی کہے کہ میں چل تو سکتا ہوں مگر مجھ میں چلنے کی طاقت نہیں یا پانی پی تو سکتا ہوں مگر مجھ میں پینے کی طاقت نہیں یا روٹی تو کھا سکتا ہوں مگر مجھ میں روٹی کھانے کی طاقت نہیں۔اس کے پاس بھی دولت ہے، مال ہے مگر وہ کہتا ہے کہ میں دے نہیں سکتا اس کے صاف معنے یہ ہوں گے کہ وہ ایمان دار نہیں۔باقی رہا روزہ اور حج۔سو۔