خطبات محمود (جلد 20) — Page 583
خطبات محمود ۵۸۳ سال ۱۹۳۹ء احادیث سے ثابت ہے کہ بعض دفعہ آپ نے جہاد میں صرف ایک رکعت پڑھائی اور دوسری کی رکعت کے متعلق کہہ دیا کہ لوگ الگ الگ پڑھ لیں۔بعض دفعہ آپ آدھے مسلمانوں کو ایک رکعت پڑھاتے اور وہ ایک رکعت پڑھ کر دشمن کے مقابلہ میں کھڑے ہو جاتے اور جنہوں نے نماز ا بھی نہیں پڑھی ہوتی تھی وہ آکر دوسری رکعت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھ لیتے۔گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعت نماز ہو جاتی اور اُن کی ایک ایک اور ایک ایک وہ الگ پڑھ لیتے سے بلکہ بعض روایات سے تو یہاں تک معلوم ہوتا ہے کہ بجائے قبلہ رو کھڑے ہونے کے ایک حصہ مسلمانوں کا دشمنوں کی طرف منہ کر کے کھڑا رہا ہے تو جہاد کو اتنی اہمیت دی گئی ہے کہ اس میں نماز کے متداول طریق کو بھی توڑ دیا گیا ہے۔اسی طرح روزہ ہے۔جہاد کی حالت میں اس کی اہمیت بھی بدل جاتی ہے۔چنانچہ حدیثوں میں آتا ہے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جہاد پر تشریف لے گئے تو کچھ مسلمانوں نے روزے رکھ لئے اور بعض نے نہ رکھے۔جب مقام پر پہنچے اور خیمہ لگانے کا وقت آیا تو وہ جنہوں نے روزے رکھے ہوئے تھے وہ تو تھک کر جا پڑے مگر جنہوں نے روزہ نہیں رکھا ہو ا تھا وہ خوب ہمت سے کام کرنے لگ گئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دیکھا تو فرمایا آج روزہ داروں سے بے روز ثواب میں بڑھ گئے ہیں۔ھے تو بعض اوقات جب جہاد واجب ہوتا ہے نماز اور روزہ کی ضرورتوں پر اُس کی ضرورت کو مقدم کر دیا جاتا ہے حتی کہ یہاں تک حدیثوں میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جہاد کے لئے جارہے تھے کہ آپ نے اُن مسلمانوں سے جو پیچھے رہ گئے تھے فرمایا عصر کی نماز میرے پاس آ کر پڑھنا۔جب وہ تیار ہو کر روانہ ہوئے تو راستہ میں ہی عصر کا وقت ہو گیا اور آہستہ آہستہ مغرب کا وقت قریب آ گیا یہ دیکھ کر بعض صحابہ نے کہا کہ ہمیں عصر کی نماز پڑھ لینی کی چاہئے وقت جا رہا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ منشا تھوڑا تھا کہ خواہ عصر کا وقت گزر جائے پھر بھی میرے پاس آکر عصر کی نماز پڑھنا مگر دوسروں نے کہا کہ ہم تو عصر کی نماز رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ہی جا کر پڑھیں گے خواہ سورج غروب ہو جائے۔کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ میرے پاس عصر کی نماز آ کر پڑھنا۔