خطبات محمود (جلد 20) — Page 580
خطبات محمود ۵۸۰ سال ۱۹۳۹ء ادا کرنے کی توفیق نہیں تھی اُنہوں نے اپنے نام کٹوا لئے اور اس طرح تین چار ہزار کی اور کمی کی ہوگئی تو دفتر حساب لگا کر کہہ سکتا ہے کہ اتنے لوگوں نے چونکہ اپنے نام کٹوالئے ہیں اس لئے اب اس قدر وصولی ہوگی کیونکہ جو لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم چندہ نہیں دے سکتے ہمارا نام کاٹ دیا جائے ہم اُن کا نام دونوں طرف سے کاٹ دیتے ہیں۔وعدہ کرنے والوں میں سے بھی اور ناد ہندوں میں سے بھی۔اس صورت میں دفتر والے یہ نہ کہتے کہ ایک لاکھ بائیس ہزار میں سے تج مثلاً ایک لاکھ اٹھارہ ہزار وصول ہوا ہے بلکہ وہ یہ کہتے کہ ایک لاکھ اٹھارہ ہزار کے وعدے تھے اور ایک لاکھ اٹھارہ ہزار ہی وصول ہوا۔در حقیت اگر کسی انسان کے حالات بدل جائیں اور وہ کی چندہ دینے کی طاقت نہ رکھے تو لازمی چندوں کی عدم ادائیگی کی صورت میں بھی اُس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا کجا یہ کہ اُس چندہ کے ادا نہ کرنے کی وجہ سے وہ گنہگا رہنے جو طوعی ہے۔ہاں اگر کسی کی ایمانی حالت خراب ہو جائے تب بیشک وہ گنہگار ہو گا اِسی طرح فرائض کی صورت میں اگر وہ جی طاقت رکھتا ہو ا حصہ نہیں لے گا تو گنہگار ہو گا لیکن ہمارا خدا اتنا تنگ دل نہیں کہ وہ کہے کہ خواہ تم میں کچھ بھی طاقت نہ ہو تب بھی تمہیں ضرور چندہ دینا پڑے گا۔بعض شرائع بیشک ایسی ہیں جن میں اس قسم کی تختی پائی جاتی ہے مگر اسلام میں نہیں۔چنانچہ بعض مذاہب کی تعلیم یہ ہے کہ انسان کا جب تک بیٹا نہ ہو وہ جنت میں نہیں جا سکتا۔اب بتا ؤ بیٹا پیدا کرنا کیا کسی انسان کے اختیار میں ہے؟ کسی انسان کے اختیار میں یہ بات نہیں کہ وہ بیٹا بنا سکے مگر بعض مذاہب میں یہ تعلیم موجود کی ہے۔آخر اس کا علاج اُنہوں نے یہ سوچا کہ جن کے ہاں بیٹا نہیں ہوتا وہ لے پالک بنا لیتے ہیں اور بعض دفعہ چونکہ انسان لے پالک بنائے بغیر ہی فوت ہو جاتا ہے اس لئے وہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص بغیر کسی کو لے پالک بنائے فوت ہو جائے اور اُس کی بیوی رکر یا کرم سے پہلے پہلے کسی کو لے پالک بنالے تو پھر بھی وہ جنت میں داخل ہو سکتا ہے۔یہ مصیبت اسی لئے آئی کہ ایسا قانون بنایا گیا جوانسان کے اختیار میں نہیں۔اس کے مقابلہ میں اسلام کو دیکھو ہماری شریعتی میں نماز کی کس قدر تاکید کی گئی ہے اتنی تاکید نظر آتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعه فر ما یا جو لوگ بلا وجہ مسجد میں عشاء اور صبح کی نماز نہیں پڑھتے میرا جی چاہتا ہے کہ اپنی جگہ نماز کے لئے کسی اور کو کھڑا کر دوں اور اپنے ساتھ بعض اور لوگوں کو لے کر ان کے سروں پر کی