خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 579 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 579

خطبات محمود ۵۷۹ سال ۱۹۳۹ء غالباً ایک لاکھ پندرہ ہزار کے قریب وصول ہوا ہے۔اس کے علاوہ دو تین ہزار روپیہ کی ایسی رقم ہے جو یقینی طور پر وصول شدہ ہے کیونکہ بعض نے اپنے چندہ کے عوض جائداد میں دے دی ہیں اور بعض نے ایسی ضمانتیں دے دی ہیں جن سے روپیہ وصول ہونا قریباً یقینی ہے اس طرح اس سال کی ادائیگی چار فیصدی کے قریب ہی کم رہ جاتی ہے لیکن بہر حال چار فیصدی کے قریب کمی ہو یا پانچ یا دس فیصدی کے قریب نادہندگی اور بلا وجہ نا دہندگی عقل کے بالکل خلاف ہے۔بعض چندے اس قسم کے ہوتے ہیں کہ انسان ان کی وصولی کے لئے دوسروں کے پیچھے پڑا رہتا ہے اور کہتا ہے ضرور چندہ دو مگر تحریک جدید کے ابتدا میں ہی میں نے اعلان کر دیا تھا کہ اس میں چند ہ لکھوانا انسان کی اپنی مرضی پر منحصر ہے۔جو شخص اپنے شوق اور اپنے اخلاص سے اس میں حصہ لینا چاہتا ہے وہ لے مگر جو شخص اپنی مرضی سے اس میں حصہ نہ لے اُسے ہم مجبور نہیں کرتے اور نہ کا رکن کسی کو مجبور کریں کہ وہ ضرور اس چندہ میں شامل ہو۔اسی طرح میں نے یہ اعلان بھی کی کر دیا تھا کہ اس چندہ کا ادا کرنا بھی ہر شخص کی مرضی پر منحصر ہے اگر چندہ لکھوانے کے بعد کسی کے حالات بدل جائیں اور وہ چندہ ادا نہ کر سکے یا چاہے کہ آئندہ اس تحریک میں بالکل حصہ نہ لے تو وہ ہمیں لکھ دے کہ میں اس تحریک میں شامل نہیں رہ سکتا میرا نام کاٹ دیا جائے۔ہم اس کا وعدہ اپنے رجسٹر میں سے کاٹ دیں گے۔پس جب کہ تحریک جدید میں چندہ لکھانا بھی ہر شخص کی مرضی پر منحصر ہے اور وعدہ کر کے اپنا نام رجسٹر سے کٹو الینا بھی ہر شخص کے اختیار میں ہے اور جب کہ دونوں طرف انسان کا اپنا اختیار ہی کام کر رہا ہے تو ایسی صورت میں چار فیصدی کیا اگر ایک فیصدی کی کمی بھی رہتی ہے تو وہ لوگ جو اس کمی کا موجب بنتے ہیں اللہ تعالیٰ کے حضور گنہگار ٹھہرتے ہیں۔اس لئے کہ جب چندہ لکھواتے وقت وہ اختیار رکھتے تھے کہ چاہیں تو لکھوائیں اور چاہیں تو نہ لکھوائیں اور جب چندہ لکھوا دینے کے بعد بھی وہ اختیار رکھتے تھے کہ چاہیں تو لکھ دیں ہمارے حالات بدل گئے ہیں اب ہم چندہ نہیں دے سکتے ، ہمارا نام لسٹ میں سے کاٹ دیا جائے تو انہوں نے نادہند بننے کی بجائے وہ طریق کیوں نہ اختیار کیا جو اُن کے لئے کھلا تھا اور جسے اختیار کر کے وہ نا دہند اور گنہگار بننے سے محفوظ رہ سکتے تھے۔فرض کر د وفات یافتوں اور اُن کی موجودہ رقوم کو نکال کر ایک لاکھ بائیس ہزار روپیہ وصول ہونا ضروری تھا مگر وہ لوگ جنہیں ا