خطبات محمود (جلد 20) — Page 474
خطبات محمود ۴۷۴ سال ۱۹۳۹ء خط ہوتے بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرما یا کرتے تھے ہماری جماعت میں دو قسم کی کے لوگ ہیں ایک تو وہ ہیں جو سارے نشانوں کو دیکھ کر احمدی ہوئے اور ایک طاعونی احمدی ہیں کہ جو اکیلا طاعون کا نشان دیکھ کر احمدی ہوئے اور فرمایا کرتے تھے کہ طاعونی احمدیوں کی تعداد کی دوسرے سارے نشانوں کو دیکھ کر احمدی ہونے والوں کی تعداد سے زیادہ ہے۔اب بتاؤ۔ہماری جماعت میں سے اگر آٹھ دس سال کے عرصہ میں سو ڈیڑھ سو آدمی طاعون سے مر بھی گیا تو اس سے احمدیوں کو نقصان کیا پہنچا ؟ پس جو احمدی مرے ان کے متعلق ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ عذاب سے ہلاک ہوئے بلکہ ہم کہیں گے کہ سُنت اللہ کے ماتحت ایک وبا سے جہاں اور لوگ ہلاک ہوئے وہاں بعض احمدی کی بھی فوت ہو گئے۔مگر غیر احمدیوں کی طاعون سے تباہی کو ہم عذاب کہیں گے کیونکہ وہ مرے بھی زیادہ اور پھر اُن کے آدمی بھی کٹ کر ہم میں آملے۔گویا انہیں دو رنگ میں تباہی ہوئی اور ہمیں دورنگ میں فائدہ پہنچا۔ان کے آدمی بھی زیادہ مرے اور پھر زندہ رہنے والوں میں سے بھی بہت سے ہم میں آملے اور ہمارے آدمی بھی کم کرے اور ہماری جماعت میں غیر لوگ داخل بھی بہت ہوئے۔پس احمدیوں پر جو موت آئی وہ ایک ابتلا تھا مگر غیروں پر جو موت آئی وہ ایک عذاب تھا۔غرض اس قسم کے عذاب نبیوں کی موجودگی میں آ سکتے ہیں۔ہاں ایک اور قسم کا عذاب نبی کے سامنے نہیں آسکتا اور وہ عذاب وہ ہوتا ہے جب ساری بستی کو تباہ و برباد کر نا مقصود ہوتا ہے جیسے حضرت نوح علیہ السلام کے زمانہ میں جب طوفان کا عذاب آیا تو اس وقت منشاء الہی یہی تھا کہ آپ اور آپ کی جماعت کے سوا جس قدر لوگ ہیں وہ سب غرق کر دیئے جائیں جس کا سامان کی اللہ تعالیٰ نے یہ کیا کہ حضرت نوح علیہ السلام کو ایک کشتی تیار کرنے کا حکم دیا جس میں آپ اور آپ کے ساتھی سوار ہو کر بچ گئے اور باقی سب غرق ہو گئے۔یا اسی طرح حضرت یونس علیہ السلام کی کی قوم پر جب عذاب آیا تو اُس وقت اللہ تعالیٰ کا یہی فیصلہ تھا کہ سب تباہ کر دیئے جائیں۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کو حکم دیا کہ اس بستی سے نکل جائیں گو بعد میں وہ لوگ کی تو بہ کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے عذاب سے بچ گئے۔۱۳ مگر بہر حال فیصلہ الہی یہی تھا کہ اگر عذاب نازل ہوتا تو سب تباہ کر دیئے جاتے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کو وہاں سے