خطبات محمود (جلد 20) — Page 475
خطبات محمود ۴۷۵ سال ۱۹۳۹ء نکل جانے کا حکم دے دیا تھا۔اسی طرح لوط علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس بستی ے چلے جاؤ کیونکہ لوط کی ساری بستی کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ تھا کہ اُس کا تختہ اُلٹ دیا جائے گا اور ان میں سے ایک بھی زندہ نہیں بچے گا۔پس جب وہ عذاب آتا ہے جس میں صرف نبیوں اور ان کی جماعتوں نے ہی بچنا ہوتا ہے۔باقی سب کے متعلق یہی فیصلہ ہوتا ہے کہ وہ تباہ کر دئیے جائیں تو اس وقت انبیاء اور ان کی جماعتوں کو الگ کر لیا جاتا ہے اور ایسے سامان پیدا کر دئیے جاتے ہیں کہ جن کے نتیجہ میں باقی جس قدر لوگ ہوتے ہیں وہ تباہ ہو جاتے ہیں۔کوئی کہہ سکتا ہے ایسے موقعوں پر بھی خدا تعالیٰ کو یہ کیا ضرورت ہے کہ وہ انبیاء کو کسی اور جگہ چلے جانے کا حکم دے۔وہ دوسرے لوگوں میں رہتے ہوئے بھی ان کو بچا سکتا ہے مگر یا درکھنا چاہئے کہ یہ امر اللہ تعالیٰ کی سنت اور اُس کے قانون کے خلاف ہے اور اگر اللہ تعالیٰ ایسا ہی کرتا کی تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ مثلاً حضرت لوط اور ان کے ساتھی جب اپنی بستی ہی میں رہتے اور عذاب کا وقت آجاتا تو اللہ تعالیٰ اور لوگوں کو ہلاک کرنے کے لئے تو زمین کا تختہ اُلٹ دیتا اور کروڑوں من مٹی ان پر گرا کر انہیں تباہ کر دیتا جس قدر درخت تھے وہ گر جاتے جس قدر باغات تھے وہ اُجڑ جاتے ، جس قد ر کنویں تھے وہ برباد ہو جاتے اور جس قدر مکانات تھے وہ پیوند خاک کی ہو جاتے مگر جب وہی مٹی جس کے نیچے دب کر اور لوگ ہلاک ہوئے حضرت لوط اور ان کے ساتھیوں پر گرتی تو انہیں یوں محسوس ہوتا کہ گویا روئی کے گالے گر رہے ہیں یا حضرت نوح کے زمانہ میں جب طوفان آتا تو سینکڑوں میل سیلاب ہی سیلاب ہوتا۔مکانات ڈوبے ہوئے ہوتے ، درختوں کی چوٹیوں تک پانی پہنچا ہوا ہوتا مگر جب وہ پانی حضرت نوح اور ان کے ساتھیوں تک پہنچتا تو ان کے اردگر د حلقہ بنالیتا اور وہ خشکی میں بیٹھے رہتے۔اب ایک طرف تو کئی سوفٹ بلند پانی کی دیوار میں کھڑی ہوتیں کیونکہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ طوفان پہاڑ کی چوٹیوں تک پہنچ گیا تھا تھا، مگر درمیان میں دس فٹ کی جگہ خالی ہوتی جس میں حضرت نوح اور ان کے ساتھی بیٹھے ہوئے تھے یا پھر یہ صورت ہوتی کہ طوفان بے شک سب جگہ آ جاتا مگر حضرت نوح اور اس کے ساتھی پانی پر اسی طرح چلتے پھرتے جس طرح خشکی پر چلا جاتا ہے اور ان کا تمام سامان بھی پانی پر اسی طرح محفوظ رہتا جس طرح خشکی پر رہتا ہے اور یا پھر یہ صورت تھی کہ