خطبات محمود (جلد 20) — Page 473
خطبات محمود ۴۷۳ سال ۱۹۳۹ء اس میں کچھ مسلمان بھی مارے گئے۔فرق یہ تھا کہ کفار کی تباہی بہت زیادہ ہوئی اور مسلمانوں کی جی تنا ہی بہت کم۔پھر کفار کو تو شکست ہوئی اور مسلمانوں کو خدا تعالیٰ نے مال دیا، عزت دی اور بالآخر فتح و کامرانی کے ساتھ وہ گھروں کو واپس لوٹے۔پس کفار کو تو نقصان ہی نقصان ہوا اور مسلمانوں کو نفع زیادہ ہو ا گو کسی قدر نقصان بھی ہوا۔یہی وجہ ہے کہ ایسی صورت میں انبیاء کی جماعتوں کو جو تکلیف پہنچا کرتی ہے وہ عذاب نہیں ہوتا کیونکہ عذاب تباہی کا موجب ہوتا ہے اور یہاں اگر پانچ سات مسلمان مارے بھی گئے تو اس کے نتیجہ میں مسلمانوں کو فتح عظیم حاصل ہوئی۔پس پانچ سات آدمیوں کا مارے جانا نقصان کا نہیں بلکہ کامیابی کا موجب ہوا۔کیونکہ ان کی قربانیوں کے نتیجہ میں مسلمانوں کی شان و شوکت میں اضافہ ہوا اور انہیں کفار پر غلبہ واقتدار حاصل ہو گیا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں طاعون پڑی اور بعض احمدی بھی طاعون سے فوت ہوئے۔قادیان میں بھی ایک دو احمدی طاعون سے شہید ہوئے۔گو بعض کی لوگ مجبہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کو طاعون نہیں کوئی اور مرض تھا لیکن بہر حال اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ وہ طاعون سے فوت ہوئے تو بھی احمدیوں میں سے تو صرف چند لوگ فوت ہوئے مگر اس کے مقابلہ میں قادیان میں تین چار سال کے عرصہ میں سینکڑوں آدمی دوسروں کی کے مرے۔باہر بھی اسی طرح ہوا کہ احمدی تو بہت قلیل تعداد میں فوت ہوئے مگر دوسرے لوگوں کی میں اموات کی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی۔پھر یہ بھی تو دیکھنا چاہئے کہ آٹھ دس سال کے عرصہ میں اگر سو ڈیڑھ سو احمدی طاعون سے فوت ہوئے ہیں تو طاعون کی وجہ سے کتنے آدمی احمدیت میں داخل ہوئے۔یقیناً ہزار ہا ایسے لوگ ہیں جو طاعون کی وجہ سے ہماری جماعت میں شامل ہوئے اور ان کے لئے احمدیت قبول کی کرنے کا محرک یہی نشان ہوا جو طاعون کی صورت میں دُنیا پر ظاہر ہوا تھا۔اُنہوں نے جب چاروں طرف موت دیکھی تو انہوں نے سمجھ لیا کہ حضرت مرزا صاحب کی پیشگوئی پوری ہوگئی اور اُنہوں نے ضروری سمجھا کہ آپ کی بیعت کر لیں۔چنانچہ ان دنوں اس کثرت سے بیعت کے خطوط آیا کرتے تھے کہ ہر ڈاک میں ستر ، استی ، سو بلکہ ڈیڑھ ڈیڑھ سو لوگوں کے بیعت کے