خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 452 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 452

خطبات محمود ۴۵۲ سال ۱۹۳۹ء ایک شخص لڑکی یا مصر سے یہاں آیا جو تقریریں کرتا پھرتا تھا کہ اگر آ نحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس زمانہ میں ہوتے تو ضرور روزہ کی شکل بدل دیتے۔اس لئے ہمیں بھی بدل دینی چاہئے گویا پہلے وہ یہ فرض کر لیتا کہ وہ زمانہ اور تھا اور یہ اور ہے۔پھر یہ کہ اگر آپ اس زمانہ میں ہوتے تو ضرور روزہ کی موجودہ شکل میں تبدیلی کر دیتے اور پھر یہ نتیجہ نکالتا کہ اس وجہ سے ہمیں بھی اب اس میں تبدیلی کر لینی چاہئے اور اس کی صورت وہ یہ تجویز کرتا تھا کہ صبح کے وقت ناشتہ کر لیا جائے پھر بعد عصر دو چار بسکٹ اور کچھ چائے پی لی جائے اور روزہ کے معنی یہ ہوں کہ زیادہ روٹی نہ کھائی جائے۔اسی طرح وہ کہتا تھا کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آج ہوتے تو نماز کی صورت بھی بدل دیتے۔اُس زمانہ میں لوگ تہ بند باندھتے تھے اور نہ بند باندھ کر خواہ اُلٹے لیٹو یا سید ھے ، خواہ اکڑوں بیٹھو خواہ گھٹنوں کے بل کوئی حرج نہیں لیکن اب پتلونوں کا زمانہ ہے۔اب تو یہی کافی ہے کہ کرسیوں پر بیٹھ کر سر جھکا لیا جائے۔اگر اسی طرح کی نماز آج پڑھی جائے جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں پڑھی جاتی تھی تو پتلونوں میں شکن پڑ جائیں گی اور ان کی استری خراب ہو جائے۔تو ایک طبقہ اس طرف چلا گیا ہے اور دوسرا اس طرف۔لاہور وغیرہ شہروں میں میں نے سُنا ہے ( دیکھا نہیں اور اگر دیکھا ہوتو یاد نہیں ) کہ رمضان میں غیر مسلم جو دعوتیں وغیرہ کرتے ہیں اُن میں مسلمانوں کے لئے علیحدہ افطاری کا انتظام بھی ہوتا ہے۔بعض مسلمان تو خواہ روزہ نہ بھی ہو شرم کی وجہ سے پہلے یونہی بیٹھے رہتے ہیں اور پھر افطاری کی میں شریک ہوتے ہیں مگر کئی پہلے وہاں کھا کر پھر افطاری میں جا شامل ہوتے ہیں اور اس طرح کی گویا عصر کے بعد کھولا ہوا روزہ دوبارہ کھولتے ہیں اور اپنے مسلمان ہونے کا دوہرا فائدہ اُٹھاتے ہیں۔عصر کے بعد تو ناشتہ کرتے ہیں اور پھر افطاری میں شامل ہوتے ہیں۔تو مسلمانوں میں آج ان دونوں قسموں کے لوگ ہیں حالانکہ اسلام وسطی مذہب ہے۔اس نے بیماری اور سفر کی حالت میں روزہ جائز نہیں رکھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سنت یہی ہے مگر کی روزہ اور نماز قصر کرنے کے احکام میں فرق ہے۔نماز کے متعلق تو یہ حکم ہے کہ اگر کسی نے چودہ کی دن تک رہنا ہو تو نماز پوری پڑھے ورنہ قصر کرے لیکن روزہ کے متعلق یہ پابندی نہیں۔چنانچہ آپ نے قادیان میں آنے والوں کو اجازت دی کہ یہاں روزہ رکھ لیں بشرطیکہ وہ دن سفر میں