خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 451 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 451

خطبات محمود ۴۵۱ سال ۱۹۳۹ء اس طرح نفس شرمندگی محسوس کرے گا اور وہ ناغہ سے بچ جائیں گے۔انہیں بھی تراویح پڑھنی چاہیئے اس کے علاوہ رمضان میں روزہ بھی نہایت اہم عبادت ہے۔اوّل تو سب کی سب عبادات اپنی اپنی جگہ پر نہایت اہم ہیں لیکن اگر عبادات کی کوئی ترتیب مقرر کی جاسکتی ہے تو روزہ کا درجہ تیسرا ہے یعنی نماز، زکوۃ اور روزہ۔گو ہمارے ملک میں اس کی ترتیب اور ہے یعنی لوگ کہا کرتے ہیں نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ لیکن شریعت کے احکام سے جہاں تک ثابت ہوتا ہے صحیح ترتیب نماز، زکوۃ، روزہ اور حج ہے۔ہندوستان کے مسلمان چونکہ زکوۃ دینے میں سُست ہیں یا مالی قربانی کا مادہ اُن میں کم ہے اس لئے اُنہوں نے اسے چوتھے نمبر پر رکھ لیا ہے۔بہر حال روزہ اہم عبادتوں میں سے ہے اور اُن میں سے جن کو قرآن کریم نے خاص طور پر بیان کیا ہے اور متعدد بار اس پر زور دیا ہے مسلمانوں میں اس وقت یہ عیب پیدا ہو گیا ہے کہ وہ می اعتدال کو ترک کر بیٹھے ہیں یا ایک سرے پر کھڑے ہوں گے اور یا دوسرے سرے پر روزہ کے متعلق بھی ان کا یہی حال ہے یا تو وہ لوگ ہیں جو اس کے ایسے پابند ہیں کہ سفر اور بیماری میں بھی کی اسے ضروری سمجھتے ہیں اور بعض تو اس میں اس قدر شدت اختیار کرتے ہیں کہ بچوں پر بھی جن پر روزے واجب نہیں ہیں سختی کرتے ہیں۔یعنی اگر بچے روزہ رکھ لیں تو توڑنے نہیں دیتے۔ایسے واقعات بھی ہوئے ہیں کہ ۷، ۷، ۸، ۸ سال کے بچوں نے روزے رکھے تو ماں باپ نے ان کی حفاظت کی کہ توڑ نہ دیں اور روزہ رکھنے پر ان کو مجبور کیا حتی کہ وہ مر گئے۔بیشک روزہ کا ادب واحترام ان کے دلوں میں پیدا کرنا ضروری ہے اور اس لئے ان کو بتا نا چاہئے کہ اگر سارا دن نباہ نہیں سکتے تو رکھو ہی نہیں لیکن یہ کہ اگر وہ رکھ لیں تو پھر توڑیں نہیں خواہ کر نے لگیں نہایت ظالمانہ فعل ہے اور اسلام کی تعلیم کے سراسر خلاف ہے۔پس گو یہ ضروری ہے کہ ان کے اندر ادب پیدا کیا جائے اور اس غرض سے ان کو سمجھایا جائے کہ اسی صورت میں روزہ رکھو کہ اسے نباہ سکولیکن رکھنے کے بعد اگر نہ نباہ سکیں تو یہ جبر کہ ضرور پورا کریں ظلم ہے۔تو ایک طرف تو کی مسلمانوں میں ایسے لوگ ہیں جو روزہ کے بارہ میں اس قد رسختی کرتے ہیں اور دوسری طرف ایسے لوگ ہیں جو روزوں کی ضرورت کے ہی قائل نہیں۔بالخصوص تعلیم یافتہ طبقہ اسی خیال کا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں مجھے یاد ہے میں نے اخبارات میں پڑھا تھا کہ