خطبات محمود (جلد 20) — Page 453
خطبات محمود ۴۵۳ سال ۱۹۳۹ء نہ ہو اس کی اور بھی کئی حکمتیں ہیں جو میں کئی دفعہ بیان کر چُکا ہوں مثلاً یہ کہ قادیان کو آپ نے ایک روحانی گھر قرار دے کر اس میں روزہ کی اجازت دے دی۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے روزہ و نماز کے سفر میں فرق کیا ہے۔بعض ان لوگوں کے روزے جو باہر سے عصر کے بعد یہاں پہنچے آپ نے تڑوا دیئے اور فرمایا کہ سفر کا روزہ قبول نہیں ہوتا۔یہ تو محض بھوکا پیاسا رہنے والی بات ہے لیکن یہاں پہنچ کر دوسرے دن رکھنے کی آپ نے اجازت دی ہے اور اس طرح دونوں سفروں میں امتیاز ہے گو ایک رنگ میں مشابہت بھی ہے اور وہ اس طرح کہ نماز کی جماعت سفر میں بھی ضروری ہے اور اس لئے سفر کی رعایت کو استعمال کرنے کا انسان کو بہت کم موقع ملتا ہے مثلاً جو لوگ قادیان آتے ہیں ان میں کوئی معذور یا بد بخت ہی ہوسکتا ہے جو مسجد میں نہ آئے اور مہمان خانہ میں علیحدہ نماز پڑھ لے۔جو شخص یہاں آئے گا وہ اگر معذور نہ ہوگا تو مسجد میں ہی آئے گا اور اس طرح اسے قصر کا بہت ہی شاذ موقع مل سکے گا یا اگر باہر کسی جگہ جائے گا تو وہاں بھی عام طور پر جماعتیں ہیں اس لئے وہاں بھی مسجد میں نماز کے لئے جائے گا اور وہ اگر مومنانہ طریق اختیار کرے تو باجماعت نماز پڑھنے کی کوشش کرے گا اور چونکہ مقامی امام ہی نماز کرائے گا اس لئے قصر سے فائدہ اُٹھانے کا بہت ہی کم موقع ملے گا۔لیکن روزہ انفرادی فعل ہے۔اگر اس میں بھی وہی شرط رکھی جاتی تو بہت سے لوگ روزوں سے محروم ہو جاتے (چنانچہ اس بناء پر میرا مدت سے یہ خیال ہے کہ روزہ کا سفر جبکہ ایک جگہ انسان کا قیام ہو ، تین دن کا ہے۔برخلاف نماز کے جس کے لئے سفر کی مدت چودہ دن مقرر ہے۔) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو قیام کے دن قادیان میں روزہ رکھنے کی اجازت دی ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ جو شخص یہاں ایک دو دن ٹھہرے ضرور روزہ رکھے بلکہ آپ نے صرف روزہ رکھنے کی اجازت دی ہے۔غرض روزہ کے بارہ میں شریعت نے نہایت تاکید کی ہے اور جہاں اس کے متعلق حد سے زیادہ تشد دنا جائز ہے، حد سے زیادہ نرمی بھی ناجائز ہے۔پس دوستوں کو چاہئے کہ نہ تو اتنی سختی کریں کہ جان چلی جائے اور نہ اتنی نرمی اختیار کریں کہ شریعت کے احکام کی ہتک ہو اور ذمہ داری کو