خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 429 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 429

خطبات محمود ۴۲۹ سال ۱۹۳۹ء پھر جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ بھی ضروری ہے کہ نوجوانوں کا با قاعدہ معائنہ ہوتا رہے تا کہ یہ معلوم ہو سکے کہ نو جوانوں کی صحت کی ترقی کی کیا رفتار ہے اور کس حد تک ہمیں اپنی کوششوں میں کامیابی ہو رہی ہے۔میں سمجھتا ہوں اگر ہم تھوڑی سی بھی توجہ کریں تو نو جوانوں کی صحت پہلے سے بہت زیادہ اچھی ہو سکتی ہے اور صحت کی درستی کے ساتھ اخلاق بھی درست ہوتے ہیں۔جب کسی شخص کی صحت خراب ہو جاتی ہے تو اس کے اندر چڑ چڑا پن پیدا ہو جاتا ہے اور وہ سُست اور کا ہل رہنے لگ جاتا ہے۔اسی سستی اور کاہلی کی وجہ سے رفتہ رفتہ وہ نمازوں میں سُست ہو جاتا ہے۔پہلے اس کی ایک نماز با جماعت جاتی ہے، پھر دو نمازیں رہ جاتی ہیں، پھر تین نمازیں رہ جاتی ہیں، پھر چار اور پھر پانچوں نمازیں ہی باجماعت پڑھنے سے وہ رہ جاتا ہے اور گھر پر نماز پڑھنے کا عادی ہو جاتا ہے۔رفتہ رفتہ گھر پر بھی نمازوں میں ناغہ ہونے لگتا ہے اور آخر نوبت یہاں تک پہنچتی ہے کہ وہ نماز کو بالکل چھوڑ بیٹھتا ہے جو دراصل صحت کی خرابی کا نتیجہ ہوتا ہے مگر شروع صحت کی خرابی سے ہوتا ہے اور انجام بے ایمانی نکلتا ہے۔دیکھنے والا سمجھتا ہے کہ یہ محض شستی کر رہا ہے بیمار نہیں حالانکہ وہ بیمار ہوتا ہے مگر چونکہ ہڈی یا جسم کو اوپر سے دیکھ کر کسی کی بیماری کا پتہ نہیں لگ سکتا اس لئے عام لوگ دوسروں کی بیماری کا صحیح اندازہ نہیں لگا سکتے۔حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ باتوں باتوں میں میں نے مولوی عبدالکریم صاحب کی سے کہا کہ ہمارے ملک میں خوبصورت آدمی کوئی نہیں ہوتا۔مولوی عبد الکریم صاحب کہنے لگے یہ بالکل غلط بات ہے ہمارے ملک میں بڑے بڑے خوبصورت لوگ ہیں۔آپ نے فرمایا اگر خوبصورتی کے یہ معنے ہیں کہ رنگ گورا ہو ، چہرہ خوب چمکتا ہو، آنکھ ناک کا نقشہ اچھا ہو تو اس قسم کے خوبصورت کئی لوگ مل جائیں گے مگر میں تو اسے خوبصورت سمجھتا ہوں جس کی تندرستی سلامت ہو وہ کہنے لگے اچھا تو آپ کے نزدیک کوئی تندرست ہے ہی نہیں۔آپ نے فرمایا میرے نزدیک تو بہت کم ایسے لوگ ہیں۔اگر آپ کے نزدیک کوئی ایسا شخص قادیان میں ہے تو بتائیے۔اُنہوں نے قادیان میں سے دو آدمی چنے اور کہا دیکھئے یہ کیسے خوبصورت ہیں وہ دونوں ایسے تھے کہ بظاہر بڑے تندرست تھے، رنگ سفید تھا اور ان کا چہرہ خوب چمکتا تھا۔اس وقت دوسرا شخص تو موجود نہیں تھا اتفاقاً ایک سامنے ہی تھا۔حضرت خلیفہ اول نے اُسے بُلایا اور کہا