خطبات محمود (جلد 20) — Page 430
خطبات محمود ۴۳۰ سال ۱۹۳۹ء ذرا ادھر تو آؤ۔وہ آیا تو آپ نے فرمایا ذرا اپنے سینہ سے گر تہ جو اُٹھاؤ اُس نے گر نہ جو اُٹھایا تو اُس کے سینہ کی تمام ہڈیاں ٹیڑھی نظر آئیں۔اُسے رکٹس (RICKETS) کا مرض تھا جس کی وجہ سے اُس کے سینہ کی ہڈیاں ٹیڑھی تھیں مگر منہ پر اس کا چونکہ کوئی اثر نہیں ہوتا اس لئے منہ اس کا خوبصورت تھا۔مولوی عبدالکریم صاحب بڑے نازک مزاج تھے اُنہوں نے جب اس کا سینہ دیکھا تو لا حول پڑھنے لگے اور فرمانے لگے یہ تو بڑا بدصورت شخص ہے۔تو اس تحریک سے ہمیں یہ ایک بہت بڑا فائدہ ہوا ہے کہ ہمیں اپنے نو جوانوں کی کمزوری صحت کا علم ہو گیا ہے اور ہم اگر چاہیں تو اس طرف توجہ کر کے اس نقص کا بہت حد تک ازالہ کر سکتے ہیں۔اس کے بعد میں ایک اور مضمون کے متعلق کچھ باتیں کہنا چاہتا ہوں۔میں نے پچھلے دنوں بعض خطبات پڑھے ہیں جن میں موجودہ جنگ کے متعلق اپنے کی خیالات کا اظہار کیا ہے۔میں نے کہا تھا کہ باوجود اس بات کے کہ پنجاب کے بعض حکام سے ہمارا اختلاف رہا بلکہ اب بھی ہے اور باوجود اس کے کہ ہم اس اختلاف کو کسی صورت میں نظر انداز نہیں کر سکتے اور نہ ہم اسے بھول سکتے ہیں اس وقت ایک ایسا خطرہ درپیش ہے کہ اس کی موجودگی میں ہمیں فی الحال اس جھگڑے کو بند کر دینا چاہئے اور اس دشمن کا متحدہ طور پر مقابلہ کرنا چاہئے جو برطانیہ پر حملہ آور ہے کیونکہ اس کے کامیاب ہو جانے کی صورت میں اسلام اور احمدیت کے لئے سخت مشکلات پیدا ہو جانے کا خطرہ ہے۔میرے ان خطبات کے متعلق ایک خط قادیان سے ہوتا ہوا مجھے سندھ میں مل۔وہ ایک احمدی نوجوان کا خط ہے اور لاہور سے آیا ہے۔اِس خط میں اُس احمدی نوجوان نے لکھا ہے کہ آپ نے خطبات تو اس لئے پڑھے ہوں گے کہ انگریزی حکومت کی امداد کی جائے اور اس کی تائید اور حمایت کی جائے لیکن مجھ پر یہ اثر ہوا ہے کہ ان خطبات کے نتیجہ میں مجھے انگریزوں سے اور بھی زیادہ نفرت ہو گئی ہے اور اُن کی تباہی کی خواہش میرے دل میں پہلے سے بھی بڑھ گئی ہے۔وہ لکھتا ہے میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ آپ نے یہ کس طرح کہہ دیا کہ اگر انگریزی حکومت کی نہ رہے تو میں موت کو اپنے لئے زیادہ پسند کروں گا۔اس سے تو انگریزوں کی دائمی غلامی کی