خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 428 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 428

خطبات محمود ۴۲۸ سال ۱۹۳۹ء نظر آ رہا ہے۔یہ سوال جانے دو کہ آج انگریزی فوج میں بھرتی ہو رہی ہے۔فرض کرو کل کی احمدی حکومت ہو اور اس کی حفاظت کے لئے نوجوانوں کی ضرورت ہو تو اس وقت کون سے نوجوان کام آئیں گے؟ آخر کو لے لنگڑے تو احمدی فوج میں بھرتی نہیں ہوں گے۔بھرتی کے لئے تو صرف وہی لئے جائیں گے جو کام کے قابل ہوں گے مگر وہ نو جوان آئیں گے کہاں سے۔جب ہماری صحتیں گری ہوئی ہوں گی اس وقت تو صرف دل میں کڑھنے والی بات رہ جائے گی جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک جنگ کے لئے جارہے تھے تو آپ نے صحابہ سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا تم لوگ کوئی تکلیف نہیں اُٹھا ر ہے مگر اس کا ثواب جس طرح تمہیں مل رہا ہے اسی طرح مدینہ کے بعض ان لوگوں کو بھی مل رہا ہے جو اس وقت اپنے گھروں میں بیٹھے ہیں۔صحابہ نے عرض کیا یا رسُول اللہ ! یہ کیا ہوا کہ تکلیف تو ہم اُٹھائیں اور ثواب میں وہ بھی ہمارے ساتھ شریک ہو جائیں۔آپ نے فرمایا یہ لوگ وہ نادار اور کمزور اور ضعیف اور ٹولے لنگڑے ہیں جو جنگ میں شامل ہونے کی طاقت نہیں رکھتے مگر اُن کے دل اس حسرت سے جل رہے ہیں کہ کاش ہمیں طاقت ہوتی اور ہم بھی اس جہاد میں شریک ہوتے لے پس اس قسم کا ثواب بے شک معذور احمدیوں کو بھی مل جائے گا مگر اس ثواب کے ساتھ عذاب بھی ہوتا ہے اور انسان کے دل میں بار بار یہ خیال آتا ہے کہ افسوس وہ خدا تعالیٰ کے دین کے کام نہ آ سکا۔گویا یہ ثواب اس عذاب کے نتیجہ میں ملتا ہے جو انسان کے دل کو ہوتا ہے اور گو اللہ تعالیٰ کے حضور وہ ثواب کا مستحق ہو جائے مگر قوم اور ملک کے لئے وہ مفید ثابت نہیں ہوسکتا۔پس اس قسم کے نو جوان اگر ہماری جماعت میں ہوئے تو بجائے ملکی اور مذہبی خدمات سرانجام دینے کے وقت آنے پر وہ دل میں کی گڑھیں گے اور کہیں گے کاش ہماری نظر اچھی ہوتی ، کاش ہمارے ہاتھوں میں طاقت ہوتی، کاش ہماری کمر مضبوط ہوتی اور ہم بھی خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے ملکی خدمات کی خاطر اپنے آپ کو پیش کر سکتے۔مگر اس میں قصور کسی اور کا نہیں بلکہ خود ان کا ہوگا۔کیونکہ انہوں نے ہی اس قسم کی طاقتیں پیدا کرنے سے بے اعتنائی کی ہو گی۔میں نے خدام الاحمدیہ کو بھی اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی اور انہیں نصیحت کی تھی کہ وہ اس قسم کی کھیلیں نو جوانوں میں رائج کریں مگر انہوں نے بھی اس طرف کوئی توجہ نہیں کی۔حالانکہ ادھر بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔