خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 270

خطبات محمود ۲۷۰ سال ۱۹۳۹ء جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں جس کے متعلق قادیان کی جماعت کوشش کر رہی ہے اور جس کے نمونہ کو دیکھتے ہوئے باہر کی جماعتوں نے ابھی کوشش کرنی ہے اور وہ تعلیم عامہ کا سوال ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تعلیم کو اتنا ضروری قرار دیا ہے کہ مکہ کے لوگ جن میں پڑھنا لکھنا عیب سمجھا جاتا تھا اُنہیں بھی آپ نے آہستہ آہستہ تعلیم کی طرف متوجہ کر دیا۔مکہ کے لوگوں میں پڑھنا لکھنا اس قدر عیب سمجھا جاتا تھا کہ جب ان میں سے کسی شخص کو کوئی کہتا کہ تم پڑھے ہوئے ہو؟ تو وہ جواب میں کہتا کہ کیا تمہارے خیال میں میں شریف خاندان میں سے نہیں ہوں۔گویا شرافت کا معیاران میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ انسان پڑھا ہوا نہ ہو۔ان میں سے وہی لوگ تعلیم کی طرف توجہ کیا کرتے تھے جنہیں سرکاری کام کے لئے لکھنا پڑھنا سیکھنا پڑتا تھا۔چنانچہ ہر بڑے خاندان میں سے چند افراد کو چن لیا جاتا تھا اور انہیں لکھنا پڑھنا سکھا کر ان کے سپر د اس قسم کا کام کیا جاتا جس میں تحریر کی ضرورت ہوتی مثلاً رؤساء کی باہمی خط و کتابت ہوئی کی یا تجارتی معاہدات ہوئے یا لڑائیوں کے متعلق قانون اور ہدایتیں ہوئیں یا کعبہ کے متعلق کوئی کی بات تحریر میں لانی ہوئی یا شہر کے متعلق کسی قسم کے قانون کا نفاذ کرنا ضروی ہو ا تو جن خاندانوں کے سپرد یہ کام ہوا کرتا تھا وہ اپنے میں سے ایک ایک دو دو کو ان کاموں کے لئے معمولی تعلیم دلا دیتے تھے۔اس قسم کے چند لوگوں کو مستی کرتے ہوئے باقی تمام لوگ فخریہ کہا کرتے تھے کہ چونکہ ہم پڑھے ہوئے نہیں اس لئے ہم شریف ہیں۔ایسی قوم میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیدا ہوئے اور انہیں لوگوں کے درمیان آپ نے پرورش پائی جس کے نتیجہ کے طور پر ظاہری حالات کے لحاظ سے آپ کے نزدیک علم کی کوئی قدر نہیں ہونی چاہئے تھی مگر چونکہ آپ کے تمام کام اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے ماتحت تھے اس لئے آپ نے اس بارہ میں بھی رائج الوقت خیالات کے خلاف قدم اُٹھایا اور صحابہ کو بار بار لکھنے پڑھنے کی تاکید کی۔تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تعلیم کا اس قدر فکر تھا کہ بدر کے موقع پر جو کفار قید ہو کر آئے با وجو د اس بات کے کہ وہ اسلام کے شدید ترین دشمن تھے ، باوجود اس بات کے کہ وہ وہی لوگ تھے جنہوں نے مسلمانوں کے خلاف تمام عرب میں دشمنی کی آگ بھڑکائی اور باوجود یکہ اُس وقت کے تمدن کے لحاظ سے یہ بالکل جائز ہوتا اگر آپ ان تمام کفار کو قتل کر کے اُس شورش