خطبات محمود (جلد 20) — Page 271
خطبات محمود ۲۷۱ سال ۱۹۳۹ء کا خاتمہ کر دیتے جو اسلام کے خلاف جاری تھی۔آپ نے ان سے کہا کہ اگر تم چاہو تو اپنے مُجرم کے بدلہ میں جرمانہ ادا کر دو اور آزاد ہو جاؤ۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے مومنوں کو یہی حکم دیا ہے کہ قیدیوں کے متعلق دو ہی صورتیں ہیں۔اما منا بَعْدُوا مَا فِدَاء لے یا تو تم انہیں احسان کرمی کے چھوڑ دو یا فدیہ لے کر رہا کر دوان دو باتوں میں سے تم کو اختیار ہے جسے چا ہوا ختیار کرلو۔کوئی تیسرا طریق تمہارے لئے جائز نہیں۔اس پر آپ نے ان قیدیوں سے فرمایا اگر تم چاہو تو تم فدیہ دے کر چھوٹ سکتے ہو مگر فرمایا ایک اور صورت بھی ہے جس کے نتیجہ میں تمہارا روپیہ بھی تمہارے گھر میں رہے گا اور تم اپنے فدیہ سے بھی سبکدوش سمجھے جاؤ گے اور وہ یہ کہ تم میں سے ہر پڑھا لکھا شخص مدینہ میں دس دس مسلمانوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دے کے یہ تعلیم پرائمری جتنی بھی نہیں تھی بلکہ معمولی نوشت خواند تھی۔چنانچہ بہت سے کفار نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس بات کو مان لیا اور وہ مدینہ میں رہ کر بچوں اور بڑوں کو پڑھاتے رہے اور جب اُنہوں کی نے لکھنا پڑھنا سکھا دیا تو وہ رہا کر دیئے گئے۔تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار کا اس پر چھ مہینے سے لے کر ڈیڑھ دو سال کا عرصہ لگا۔اس دوران میں ان کا کھانا اور کپڑا مسلمانوں کے ذمہ رہا۔گویا انہیں تنخواہ بھی ملتی رہی، اُن کا روپیہ بھی گھر میں رہا اور اُن کی طرف سے فدیہ بھی ادا ہو گیا۔تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم کو اس قدر اہم قرار دیا ہے کہ آپ نے مسلمانوں کو تعلیم دلانے کے لئے کافروں کو اپنے گھروں میں رکھ لیا۔حالانکہ بالکل ممکن تھا مسلمانوں میں شامل رہنے کی وجہ سے انہیں مسلمانوں کی بعض کمزوریوں کا علم ہو جاتا ، ان کے سامانِ حرب کی کمی کا انہیں پتہ چل جاتا ، ان کی تعداد کی قلت انہیں معلوم ہو جاتی اور اس طرح بعد میں وہ اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچا دیتے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات کی ج کوئی پرواہ نہیں کی۔آپ نے ڈیڑھ دو سال تک کفار کو اپنے اندر رکھا اور چاہا کہ مسلمان لکھنا کی پڑھنا سیکھ لیں خواہ بعد میں کفار کی طرف سے بعض نقصانات ہی کیوں نہ پہنچ جائیں۔تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس چیز کی اتنی قیمت قرار دی ہے اگر ہم اس چیز کی کم قیمت قرار دیں تو دراصل ہم اس محبت کی کمی کا اقرار کرتے ہیں جو ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم