خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 249 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 249

خطبات محمود ۲۴۹ سال ۱۹۳۹ء کی طرف ہمیں توجہ کرنی چاہئے اور وقت پر مرض کا علم ہو جانا بھی برکت ہے۔کیونکہ اس صورت میں علاج ممکن ہوتا ہے۔بہت سی بیماریوں کا علاج اس لئے نہیں ہو سکتا کہ بروقت علم نہیں ہوتا اور اس مخالفت کا پیدا ہونا ہمیں اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ ہمیں زیادہ محنت اور کوشش سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔پس خدام الاحمدیہ بجائے اس مخالفت سے گھبرانے کے زیادہ شوق اور محنت سے کام کریں۔ایسے لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کریں، پہلے محلوں کے ممبر سمجھا ئیں اگر اُن کا اثر نہ ہو تو عہدہ دار ایسے لوگوں کے پاس جائیں یہ بھی بے اثر ہوتو دوسرے بزرگوں کے وفد خدام الاحمدیہ والے لے جائیں جو ان لوگوں کو سمجھائیں اور ان کو چھوڑیں نہیں جب تک کہ قائل نہ کر لیں۔اگر اپنے آدمیوں کو بھی ہم قائل نہیں کر سکتے تو اس کے یہ معنی ہیں کہ ہم اپنی کمزوری کا خود اعتراف کرتے ہیں۔کمزور لوگ ہر وقت اور ہر زمانہ میں ہوتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں بھی منافق لوگ موجود تھے۔پھر بعض لوگ یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ ایسے لوگوں کی کو چھوڑ دینا چاہئے لیکن یہ بھی صحیح نہیں۔کمزوروں کو دیکھ کر گھبراناغلطی ہے مگر اس بات پر مطمئن ہو کج جانا کہ ایسے لوگ ہر زمانہ میں ہوتے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں بھی تھے اس سے بھی بڑی غلطی ہے اگر پہلے سلسلوں میں کمزور لوگ رہے ہیں تو ساتھ ہی یہ بھی تو ہے کہ اس زمانہ کے بزرگوں نے کبھی ان کے وجود کو اطمینان کے ساتھ گوارا نہیں کیا بلکہ ہمیشہ ان کی اصلاح میں لگے رہتے تھے اسی طرح ہمیں بھی اس کوشش میں لگے رہنا چاہئے کہ وہ بچ جائیں۔پس تعلیمی سکیم کی مخالفت سے خدام الاحمدیہ کو گھبرانا نہیں چاہئے بلکہ مخالفوں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرنی چاہئے۔پہلے خدام خود سمجھا ئیں اگر اس کا اثر نہ ہو تو پھر پریذیڈنٹ اور سیکرٹری وغیرہ ان کے پاس جائیں اور سمجھا ئیں۔اس سے بھی فائدہ نہ ہو تو سلسلہ کے دوسرے بزرگ جائیں اور پھر بھی اگر نتیجہ خاطر خواہ نہ پیدا ہو تو مجھے لکھا جائے کیونکہ اتنی کوشش کے باوجود بھی جس کی اصلاح نہ ہو اس کی نسبت سمجھنا چاہئے کہ اس کی بیماری اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ وہ کی جماعت سے الگ کیا جانے کے قابل ہے۔پس مخالفت کی وجہ سے مایوس نہیں ہونا چاہئے اور نہ اس بات سے مطمئن ہونا چاہئے کہ کمزوروں کا وجو د لازمی ہے۔بے شک ان کا وجود لازمی ہے مگران کی اصلاح کی کوشش اس سے بھی زیادہ ضروری اور لازمی ہے۔“ (الفضل ۲۴ رمئی ۱۹۳۹ء) 66