خطبات محمود (جلد 20) — Page 235
خطبات محمود ۲۳۵ سال ۱۹۳۹ء کی وجہ سے اس میں ایک حد تک کمی آگئی ہے مگر پھر بھی بعض لوگ ابھی تک ایسا کرتے ہیں اور تکبیر پر ہی مسجد میں پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔مجھے افسوس ہے کہ ہمارے خاندان کے بعض افراد میں بھی یہ سستی آگئی ہے اور ہمارے گھر کے بعض بچے بھی اس مرض میں مبتلا ہیں۔میں نے ان کے متعلق دیکھا ہے کہ جب میں مسجد میں آتا ہوں تو وہ شاذ ہی مجھے یہاں نظر آتے ہیں بلکہ گھر میں سنتیں پڑھ کر انتظار کرتے رہتے ہیں جب وہ دیکھتے ہیں کہ میں گھر میں سے ہو کر مسجد میں چلا گیا ت ہوں تو اُس وقت وہ دوڑتے ہوئے نماز میں آشامل ہوتے ہیں۔آج تو ان کو بیشک یہ سہولت کی میٹر ہے مگر وہ یہ نہیں سمجھتے کہ میں ہمیشہ رہنے والی ہستی نہیں ، ہمیشہ رہنے والی ہستی تو حی و قیوم خُدا ہی کی ہے۔میرے بعد جو خلیفہ ہو گا کون کہ سکتا ہے کہ وہ کس گھر کا فرد ہو گا ؟ اُس وقت انہیں کیونکر علم ہو گا کہ امام مسجد میں نماز کے لئے آ گیا ہے۔اُس وقت ان کو جو تمہیں تمہیں سال سے کی عادت پڑی ہوئی ہوگی وہ کیسے دُور ہوگی؟ اور وہ کیسے باجماعت نماز ادا کریں گے؟ اگر اس وقت انہوں نے اپنی حالت کی اصلاح نہ کی تو پہلے ان کی جماعت کی پہلی رکعت جاتی رہے گی پھر دوسری رکعت جاتی رہے گی پھر تیسری رکعت جاتی رہے گی اور آہستہ آہستہ وہ باجماعت نماز ادا کرنے سے ہی محروم ہو جائیں گے اور خیال کر لیں گے کہ چلو گھر پر ہی نماز پڑھ لیں اور بعد میں ممکن ہے وہ گھر میں بھی نماز پڑھنا چھوڑ دیں۔میں ان کو اس حدیث کے مطابق کہ کسی کا نقص لوگوں کے سامنے بیان نہیں کرنا چاہئے۔اشاروں میں توجہ دلا چکا ہوں لیکن جب ان پر میرے اشاروں کا کوئی اثر نہیں ہوا تو میں نے ضروری سمجھا کہ اب زیادہ وضاحت سے کام لے کر ان کو توجہ دلاؤں تا کہ وہ اپنی اس غفلت کی عادت کو ترک کر دیں۔جو لوگ گھروں میں نماز پڑھنے کی کے عادی ہوتے ہیں وہ آہستہ آہستہ نماز پڑھنا با کل چھوڑ دیتے ہیں۔چنانچہ میں نے آج تک کبھی نہیں دیکھا کہ گھر پر نماز پڑھنے والا کوئی شخص ہمیشہ نماز کا پابند رہا ہو وہ بالآ خر نماز کا تارک ہی ہو جاتا ہے کیونکہ اس کی نماز رسمی ہوتی ہے محبت اور ایمانی روح اس میں نہیں ہوتی وہ پہلے تو گھر میں نماز پڑھتا رہتا ہے مگر جس دن کسی عقلمند اور سمجھدار آدمی سے اس کی ملاقات ہو ( میں نے عقلمند کا لفظ اس لئے استعمال کیا ہے کہ ایسے لوگوں کے نزدیک عقلمند وہی ہوتا ہے جو نماز کو بے فائدہ سمجھے اور اسلام کی عائد کردہ پابندیوں کو بُرا قرار دے) اور وہ کہے کہ میاں اس نماز کا تم کو کیا