خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 234

خطبات محمود ۲۳۴ سال ۱۹۳۹ء دیا جاتا ؟ یہ سب احکام اسی لئے ہیں کہ انسان ان پر عمل کرتے ہوئے آہستہ آہستہ نیکی کے بلند پہاڑ پر چڑھے مگر جو شخص بغیر ان بلندیوں کو عبور کرنے کے پہاڑ کی چوٹی پر چڑھنا چاہتا ہے وہ احمق اور نادان ہے وہ نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ نے روحانی ترقی کے لئے کونسے اصول اور ذرائع مقرر کئے ہوئے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ دین کی تکمیل کے لئے ان تمام ذرائع کا استعمال کرنا ضروری ہوتا ہے جو اس کو حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے مقرر کئے ہوئے ہوتے ہیں اور ان کے حاصل کئے بغیر دین کی تکمیل قطعاً نہیں ہو سکتی۔یہی مغربی تہذیب سے متاثر نو جوان جو ہر بات میں وجہ اور حکمت تلاش کرنے کے عادی ہیں اُن کو دیکھا گیا ہے کہ اگر کسی جگہ ڈنر پر جانا ہوتا ہے تو کالے کوٹ کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں کبھی کسی سے پوچھتے ہیں کبھی کسی سے اور اگر کالا کوٹ نہ ملے تو وہ اسے اپنے لئے سخت ذلت کا باعث سمجھتے ہیں۔اب بھلا ان سے کوئی پوچھے کہ کالے کوٹ کا ڈنر کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ کیا کالے کوٹ کے ساتھ روٹی کاٹنی ہوتی ہے یا پھل کاٹنے ہوتے ہیں یا ہڈی چبانے کا کام لینا ہوتا ہے؟ لیکن باوجود اس بات کے کالے کوٹ کے ساتھ ڈنر کا کوئی تعلق نہیں وہ کالا کوٹ پہنا ضروری سمجھتے ہیں مگر اسلام کے حکموں پر اعتراض کرتے ہیں کہ فلاں حکم کیوں ہے فلاں کیوں ہے؟ وضو کر نے کی حکمت ان کی سمجھ میں نہیں آتی ، نماز سے پہلے ذکر الہی کرنے کی حکمت ان کی سمجھ میں نہیں آتی اور وہ گھبرا جاتے ہیں لیکن ڈنر کے لئے کالا کوٹ یا سوٹ کے ساتھ ٹائی پہنے یا بوٹ کے ساتھ جراب پہننے کی حکمت سمجھنے کی انہیں کوئی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔وہ خیال رکھتے ہیں کہ پتلون میں کوئی کریز CREASE) نہ پڑے اور وہ بغیر اس کی حکمت سمجھنے کے اِس کو ضروری سمجھتے ہیں غرض شیطان کی پیدا کی ہوئی تمام پابندیوں کو اختیار کرتے اور اس کی پیدا کردہ یک جہتی کے لئے کوشاں رہتے ہیں مگر خدا کی مقرر کردہ پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں اور اس کی یک جہتی کی تدبیروں کو لغو قرار دیتے ہیں۔اسی طرح بعض لوگ ایسے ہیں جو اپنی دکانوں میں بیٹھے رہتے ہیں کہ کب تکبیر ہو تو نماز میں جا شامل ہوں۔ایسی ہی ایک دکان فخر الدین ملتانی کی تھی جو اس قسم کے لوگوں کا اڈا تھا اس جگہ بڑے بڑے لوگ جو معزز سمجھے جاتے ہیں بیٹھے رہتے تھے اور اس انتظار میں رہتے تھے کہ کب تکبیر ہو تو مسجد میں جائیں۔اب گو اس دکان کے نہ ہونے