خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 236

خطبات محمود ۲۳۶ سال ۱۹۳۹ء فائدہ؟ تو اسی روز سے وہ نماز پڑھنا چھوڑ دے گا اور کہے گا کہ واقع میں اس نماز کا کوئی فائدہ نہیں حالانکہ وہ نہیں جانتا کہ وہ نماز جس کا اُسے کوئی فائدہ نظر نہیں آیا وہ اس کی اپنی بنائی ہوئی نماز تھی۔خدا کی نما ز تو وہ پڑھتا ہی نہیں تھا۔اگر وہ خدا کی نماز پڑھتا اور ان شرائط کے ساتھ ادا کرتا جو اس کے لئے مقرر ہیں تو اس کا اُسے فائدہ بھی پہنچتا اس کے بغیر اس کی نماز محض ایک رسم تھی جس میں ایمان نہیں تھا اور نہ وہ رُوح اس کے اندر تھی جس رُوح کا نماز کے اندر پایا جانا ضروری ہے۔نماز اپنی ان قیود اور پابندیوں کے ساتھ جو اللہ اور اس کے رسول نے مقرر کی ہیں ایک حسین ترین چیز ہے لیکن اگر کسی حسین کی ناک کاٹ دی جائے آنکھ پھوڑ دی جائے گالوں پر نشان لگا دیئے جائیں اور کان کاٹ لئے جائیں تو کون شخص کہہ سکتا ہے کہ یہ وہی حسین ہے۔یہی حال نماز کا ہے کہ نماز اپنی تمام قیود اور پابندیوں کے ساتھ ایک انتہا درجہ کی کی خوبصورت چیز ہے مگر جب ہم اپنی غفلت اور نادانی کی وجہ سے اس کو چھانٹتے چلے جائیں تو وہ کی بے فائدہ اور لغو چیز بن جاتی ہے اور ایسی نماز کبھی با برکت نہیں ہو سکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ لوگ نماز اس طرح پڑھتے ہیں جس طرح مرغ ٹھونگے مار کر دانے چگتا ہے ایسی نماز یقیناً کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی بلکہ بعض دفعہ ایسی نما ز لعنت کا موجب بن جاتی ہے جیسے قرآن کریم میں ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دیدُ لِلْمُصَدِّين سے کہ نماز گرفت ہے مگر کن کے لئے ہے الَّذِینَ هُمْ عَن صَلاتِهِمْ ساھون کے ان کے لئے جن کی نماز قشر رہ جاتی ہے جس کے اندر مغز نہیں ہوتا جو اس کو کاٹ کر اور اس کی شکل کو بگاڑ کر ادا کرتے ہیں۔انسان تبھی اس لعنت سے بچ سکتا ہے جب وہ نماز کو اس کی قیود اور پابندیوں کے ساتھ ادا کرے اور پھر اس سے فائدہ اُٹھائے لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو بجائے ثواب کے ایک لعنت مول لیتا ہے اور اگر وہ ضد کی وجہ سے کہتا ہے کہ ہاں فائدہ ہے اور درحقیقت اُسے فائدہ کوئی نہیں ہوتا تو اس وقت وہ جھوٹا بھی ہوتا ہے اور لعنتی بھی کیونکہ وہ خدا اور رسول اور اپنے مذہب کو عملی طور پر جھوٹا کہتا ہے۔ہاں اگر وہ نماز کو ان قیود اور پابندیوں کے ساتھ ادا کرتا ہے جو خدا اور رسول نے مقرر کی ہیں تو اس کو اس کا ضرور فائدہ ہوتا ہے اور اس کے دل پر خدا تعالیٰ کی محبت غلبہ کر لیتی ہے بلکہ نماز سے بھی پہلے جب یہ ذکر الہی کرتا اور نماز کے لئے انتظام کرتا اور سنتیں وغیرہ کی