خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 233

خطبات محمود ۲۳۳ سال ۱۹۳۹ء وہ یقیناً چھوٹے سے چھوٹا ٹکڑا بھی ایسے خربوزے کا کھانے کے لئے تیار نہیں ہو گا۔کجا یہ کہ وہ زیادہ حصہ کھالے اور تھوڑا چھوڑ دے۔پس یہ احمقانہ خیال ہے کہ نماز کے انتظار میں بیٹھنا اپنے وقت کو ضائع کرنا ہے مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ نقص بعض احمد یوں میں بھی پایا جاتا ہے۔وہ نماز تو پڑھتے ہیں لیکن ذکر الہی کی اہمیت کو نہیں سمجھتے اور نماز پڑھنے کے لئے وہ ایسی ہی مسجد کی تلاش کرتے ہیں جس میں نماز جلدی پڑھائی جاتی ہو اور پھر امام ایسا ڈھونڈتے ہیں جو دو تین ٹھونگیں مار کر نماز پڑھا دے اور مقتدیوں کو جلد فارغ کر دے اور ان کو زیادہ وقت نماز کے لئے صرف نہ کرنا پڑے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ نماز اپنے اپنے محلہ کی مسجد میں ادا کرو کے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا اُس وقت یہ بے حکمت سا نظر آتا تھا لیکن انبیاء علیہم السلام کی فراست غیر معمولی طور پر تیز ہوتی ہے اور وہ انسانی نفس کی تمام کمزوریوں کو مد نظر رکھتے ہوئے احکام دیتے ہیں۔چنانچہ موجودہ زمانہ کے نقائص کو دیکھ کر کچ معلوم ہوتا ہے کہ اس حکم میں ایک بہت بڑی حکمت ہے اور وہ یہ کہ جب تم اپنے محلہ کی مسجد چھوڑ کر دوسری جگہ جاتے ہو تو دراصل آرام طلبی کے لئے جاتے ہو کیونکہ تمہیں خیال ہوتا ہے کہ وہاں نماز جلدی ہو جائے گی۔تم جانتے ہو کہ وہاں امام کس قسم کی نماز پڑھاتا ہے اور تم اپنے محلہ میں نماز اس لئے نہیں پڑھتے کہ تم جانتے ہو وہاں تم کو انتظار کرنا پڑے گا اور نماز بھی ادا کرنی ہوگی۔پس یہ ایک نہایت ہی پر حکمت حکم ہے جس کی حکمت اب نمایاں طور پر محسوس ہوتی ہے۔پھر بعض لوگ ایسی مسجد میں جا کر نماز پڑھتے ہیں جہاں بچوں کو نماز پڑھائی جاتی ہے چونکہ اس جگہ نماز گھنٹی بجنے کے ساتھ ہوتی ہے اور بچوں کے لئے جلدی پڑھا دی جاتی ہے اس لئے وہ بھی اسی مسجد میں جا کر نماز پڑھتے ہیں لیکن محلہ کی مسجد میں چونکہ انہیں انتظار کرنا پڑتا ہے اس لئے وہ کی محلہ کی مساجد میں نماز نہیں پڑھتے۔حالانکہ امام کا انتظار اور ذکر الہی میں مشغول رہنا یہ بہت بڑی نیکیاں ہیں اور یہی نیکیاں انسان کو نیکیوں کے پہاڑ کی چوٹی تک پہنچاتی ہیں۔اگر اس پہاڑ کی تک پہنچنے کے لئے ابتدائی نیکیوں کی ضرورت نہ ہوتی جو ٹیلوں وغیرہ سے مشابہت رکھتی ہیں تو کی نماز کے لئے اذان کیوں دی جاتی ؟ پھر امام کے انتظار کا کیوں حکم دیا جاتا جس میں ذکر الہی کیا جاتا ہے اور پھر سنتیں پڑھنے کا حکم کیوں دیا جاتا ؟ اسی طرح نماز باجماعت کا حکم کس لئے