خطبات محمود (جلد 20) — Page 232
خطبات محمود ۲۳۲ سال ۱۹۳۹ء ہوتے ہیں اُس کے بعد چیڑ و دیار کے بلند و بالا درختوں والی اونچی پہاڑیاں آتی ہیں اور آخر کی میں برف سے ڈھکی ہوئی نہایت اونچی پہاڑیوں پر یہ سلسلہ ختم ہوتا ہے۔ان بلند چوٹیوں کے بعد پہاڑ پھر نیچا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔چنانچہ سب سے اونچے پہاڑ کے بعد اس سے چھوٹا اور اس کے بعد اس سے چھوٹا پہاڑ آتا ہے پھر ٹیلے آتے ہیں پھر نا ہموار زمین آتی ہے اور اس کے بعد ہموار زمین آنی شروع ہو جاتی ہے۔اسی طرح نماز کا بھی حال ہے یہ بھی ایک پہاڑ ہے جو انسان کو نیکی کی بلند ترین چوٹی تک پہنچاتا ہے۔اب یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ اس پہاڑ کی چوٹی پر انسان بغیر ابتدائی مراحل طے کئے پہنچ جائے ؟ یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس کے متعلق بعض احکام دیئے۔مثلاً سب سے پہلے اذان دیئے جانے کا حکم ہے اس کے بعد وضو کیا جاتا ہے اور پھر سنتیں پڑھی جاتی ہیں اس کے بعد فرض آتے ہیں جو پہاڑ کی چوٹی کے مقابل پر ہیں۔فرضوں کی کے بعد پھر سنتیں ادا کی جاتی ہیں اور تب انسان کو نماز سے فراغت حاصل ہوتی ہے۔اس کے کی علاوہ ذکر الہی بھی ہے جو نماز سے پہلے اور نماز کے بعد کیا جاتا ہے اور جو بہت ہی ضروری چیز ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ذکر الہی انسان کے لئے بہت بڑی برکات کا موجب ہوتا ہے اور آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جو شخص نماز کے انتظار میں بیٹھا رہتا ہے وہ ایسا ہی ہے گویا جہاد میں مشغول ہے لے لیکن آجکل کے احمق نام نہاد تعلیم یافتہ نو جوانوں کے نزدیک مسجد میں نماز کے انتظار کے لئے بیٹھنا اپنے وقت کو ضائع کرنا ہے حالانکہ وہ اتنا نہیں سمجھتے کہ اگر انسان کی پیدائش کی غرض حصول دُنیا ہی تھی تو نماز کے لئے وقت خرچ کرنا بھی تو وقت ضائع کرنا مج ہے۔وقت ضائع کرنے والی چیز خواہ کم ہو یا زیادہ ایک ہی بات ہے۔اب یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ جو شخص مثلاً پچیس منٹ نماز کے انتظار میں بیٹھے وہ تو وقت ضائع کرنے والا ہو لیکن دوسر اشخص جو دس منٹ نماز میں خرچ کرے وہ وقت ضائع کرنے والا نہ ہو۔کوئی عقلمند اور سمجھدار آدمی اس کیلے کو نہیں کھائے گا جو سڑا ہوا اور گندا ہو بلکہ وہ اُسے پھینک دے گا یہ نہیں ہوگا کہ وہ کچھ حصہ کھائے اور باقی کے متعلق کہہ دے کہ میں یہ نہیں کھاتا یا ایک خربوزہ جس میں کیڑے پڑے ہوئے ہوں اور جس میں سے بدبو آ رہی ہو اُس کے متعلق وہ یہ کبھی نہیں کرے گا کہ اُس کی پانچ چھ کیڑوں والی پھانکیں تو کھالے اور باقی پھینک دے اور کہے کہ میں گندا خربوزہ نہیں کھا سکتا۔