خطبات محمود (جلد 20) — Page 231
خطبات محمود سال ۱۹۳۹ء بیان کیا کرتے ہیں۔پس اس نے فیصلہ کیا کہ مجھے شیر کی شکل اپنے جسم پر گدوانی چاہئے۔یہ فیصلہ کر کے وہ کسی کی گودنے والے کے پاس گیا اور اُسے شیر کی شکل گودنے کو کہا۔گودنے والے نے جب رنگ بھرنے کے لئے سوئی ماری تو اُسے درد محسوس ہوا اور پوچھنے لگا میاں کیا کرنے لگے ہو؟ اُس نے کہا شیر گودنے لگا ہوں۔اِس پر اُس نے دریافت کیا کہ شیر کا کونسا حصہ ؟ نائی نے کہا شیر کا دایاں کی کان گود نے لگا ہوں اُس نے پوچھا کہ اچھا یہ بتاؤ اگر شیر کا دایاں کان نہ ہو تو شیر رہتا ہے یا نہیں ؟ نائی نے کہا رہتا تو شیر ہی ہے اس پر اُس نے کہا اچھا پھر دایاں کان چھوڑ دو اور آگے چلو۔جب نائی نے بایاں کان گودنے کے لئے سوئی ماری تو پھر اُس کو درد محسوس ہوا اور اُس نے پھر پوچھا میاں اب کیا گودنے لگے ہو؟ اُس نے کہا اب بایاں کان گود نے لگا ہوں۔وہ کہنے لگا اچھا یہ بتاؤ اگر شیر کا بایاں کان نہ ہو تو شیر رہتا ہے یا نہیں ؟ نائی نے جواب دیا کہ رہتا تو شیر ہی ہے اس پر اُس نے کہا اچھا اس کو بھی چھوڑو اور آگے چلو۔اس کے بعد جب نائی نے دم بنانے کے لئے سوئی ماری تو پھر وہ کہنے لگا اب کیا بنانے لگے ہو؟ گودنے والے نے کہا دُم۔کہنے لگا اچھا یہ بتاؤ اگر کسی شیر کی دم نہ ہوتو وہ شیر رہتا ہے یا نہیں ؟ نائی نے کہا رہتا تو شیر ہی ہے۔کہنے لگا اچھا پھر اس کو بھی چھوڑو اور آگے چلو۔اس طرح اس نے چار پانچ مرتبہ جو کیا تو نائی سوئی رکھ کر بیٹھ گیا اور کہنے لگا ایک دو چیزوں کے نہ ہونے سے تو شیر رہ سکتا ہے لیکن سب چیزوں کے نہ ہونے سے تو شیر کا کچھ بھی نہیں رہتا۔بظاہر یہ ایک مضحکہ خیز مثال معلوم ہوتی ہے لیکن در حقیقت یہ نہایت سبق آموز حکایت ہے اور یہ نصیحت اپنے اندر پنہاں رکھتی ہے کہ تھوڑا تھوڑا چھوڑنے سے سب کچھ چھوٹ جاتا ہے اور کچھ بھی ہاتھ میں نہیں رہتا۔اسلام کے نہایت ہی اہم اور مہتم بالشان اصول میں سے ایک اصل نماز با جماعت ادا کرنا ہے اور یہ ایک بہت بڑا حکم ہے۔ایک پہاڑ ہے نیکی کا جس طرح پہاڑ کی بلند چوٹیوں کے آنے سے قبل کئی چھوٹی چھوٹی چوٹیاں آتی ہیں پہلے چھوٹے چھوٹے ٹیلے آتے ہیں پھر اُن سے اونچے ٹیلے پھر اُن سے اونچے پھر جھاڑیوں والے ٹیلے آنے شروع ہو جاتے ہیں پھر پہاڑ آنے شروع