خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 230 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 230

خطبات محمود ۲۳۰ ۱۵ سال ۱۹۳۹ء نماز با جماعت کی ادائیگی کی اہمیت (فرموده ۱۲ رمئی ۱۹۳۹ء) تشہد ، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- نیکیوں میں ترقی اور تنزل بتدریج ہوا کرتا ہے۔جب کوئی شخص نیکی کے میدان میں ترقی کرتا ہے تو آہستہ آہستہ کرتا ہے اور جب تنزل کرنے لگتا ہے تو اُس وقت بھی آہستہ آہستہ کرتا ہے نہ یکدم ترقی کرتا ہے نہ یکدم تنزل میں گر جاتا ہے۔چھوٹا چھوٹا فرق ہوتا ہے جو بتدریج بڑھتے بڑھتے بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔انسان بعض دفعہ بظاہر چھوٹی چھوٹی باتوں پر عمل کر رہا ہوتا ہے اور اُسے معلوم بھی نہیں ہوتا کہ وہ ترقی کر رہا ہے مگر ایک دن کیا دیکھتا ہے کہ وہ ترقی کے میدان میں بہت آگے نکل چکا ہے۔اسی طرح وہ بعض دفعہ بظاہر معمولی باتوں کو نظر انداز کر رہا ہوتا ہے کہ یکدم اسے معلوم ہوتا ہے وہ بہت نیچے گر گیا ہے۔ہمارے ملک میں ایک لطیفہ مشہور ہے۔کہتے ہیں کوئی شخص تھا اُس کو یہ خیال ہو گیا کہ وہ بہت بڑا پہلوان ہے آہستہ آہستہ یہ خیال اُس پر غالب آ گیا اور وہ سمجھنے لگ گیا کہ میں دُنیا کا سب سے بڑا بہادر اور طاقت ور انسان ہوں اور کوئی شخص بہادری اور جرأت میں میرا مقابلہ نہیں کر سکتا۔اس پر اُسے خیال آیا کہ کی اپنی بہادری کا کوئی نشان بھی قائم کرنا چاہئے۔چنانچہ اُس نے خود بھی سوچا اور اپنے دوستوں سے بھی مشورہ لیا کہ وہ کونسی چیز ہے جس کے ذریعہ بہادری کا نشان قائم کیا جاسکتا ہے۔آخر اُس کو معلوم ہوا کہ جانوروں میں سے شیر ایک ایسا جانور ہے جس کو لوگ بہادری کی مثال میں