خطبات محمود (جلد 20) — Page 220
خطبات محمود ۲۲۰ سال ۱۹۳۹ء خریدی جا چکی ہے مگر باوجود اس کے کہ اس پر دو سال کا عرصہ گزر چکا ہے اس کی توسیع کی کی طرف کوئی توجہ نہیں کی گئی پھر مسجد اقصیٰ کی موجودہ وسعت کے باوجود اگر اس خالی جگہ میں سائبان بھی ہوں تو بھی میں سمجھتا ہوں یہ ابھی نا کافی ہے۔سردیوں کے دنوں میں جب سب جگہ لوگ بیٹھے ہوتے تھے میں نے دیکھا ہے کہ پھر بھی بعض لوگ گلیوں میں کھڑے ہوتے تھے جس کے معنی یہ ہیں کہ ابھی اس کی وسعت کی آواز بلند ہو رہی ہے۔اس کے علاوہ عورتوں کے لئے کوئی جگہ نہیں وہ جمعہ کے ثواب سے بالکل محروم رہتی ہیں۔ایک عرصہ سے وہ جمعہ اور خطبہ۔محروم رہتی ہیں اب لاؤڈ سپیکر لگ جانے کی وجہ سے وہ اُم طاہر کے صحن میں جمع ہو کر شامل ہو جاتی کی ہیں لیکن مسجد میں آ کر نماز پڑھنا جو ثواب رکھتا ہے وہ کسی کے گھر میں بیٹھ کر پڑھنے سے بہت زیادہ ہے۔پس میرے نزدیک مسجد اقصیٰ میں توسیع کی بھی ابھی ضرورت ہے اور مسجد مبارک کی بھی۔اسی لئے کچھ عرصہ ہوا میں نے تحریک کی تھی اگر صدرانجمن احمد یہ اور ذمہ دار افسر اس پر توجہ کرتے اور اپنی ذمہ داری کو سمجھتے تو اب تک یہ کام ہو چکا ہوتا۔میں نے جب اس کے متعلق کی خطبہ پڑھا تو باوجودیکہ میں نے کہہ دیا تھا کہ اس تحریک میں دس روپیہ سے زیادہ کسی سے نہیں لیا تی جائے گا پھر بھی ایک عورت نے اپنی دوسو روپیہ کے قریب مالیت کی چوڑیاں اس فنڈ میں داخل کرنے کے لئے مجھے بھیج دیں جو میں نے بہ زور واپس کیں اور کہا کہ آپ اس میں دس روپیہ تک ہی دے سکتی ہیں اس خطبہ کے بعد طبائع میں ایک جوش پیدا ہوا تھا باہر سے بھی اس کے کی متعلق مجھے کئی خطوط آئے تھے اور میں سمجھتا ہوں اگر صدر انجمن احمد یہ کام کرتی تو اس خطبہ کا کی افراد پر اس قدر اثر تھا کہ اب تک یہ کام ہو چکا ہوتا لیکن اس نے نہ تو اس آواز کو سب کے کانوں تک پہنچانے کی ضرورت سمجھی نہ اپنی کوئی ذمہ داری محسوس کی ، نہ اس کے متعلق کوئی ریز ولیوشن پاس کیا اور نہ بیت المال نے اس تحریک سے فائدہ اُٹھایا۔اُنہوں نے بس خطبہ سنا اور مسکرا کر چل دیئے اور سمجھ لیا کہ تحریک ہو چکی۔حالانکہ ہر تحریک کامیابی کے لئے پرو پیگنڈا چاہتی ہے۔ضروری ہوتا ہے کہ لوگوں تک اسے پہنچایا جائے اور وصولی کا انتظام کیا جائے۔آواز کان میں پڑی اور سُن کر چلے گئے یہ علامت تو قرآن کریم نے منافقوں کی بتائی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی بات فرماتے تو مومن اُسے سُن کر ذہن نشین کر لیتے تھے اور عمل پر