خطبات محمود (جلد 20) — Page 219
خطبات محمود ۲۱۹ سال ۱۹۳۹ء کھلے صحن میں نماز پڑھتے تھے۔سوائے ان چند ایک کے جن کو چھت کے نیچے جگہ مل جاتی تھی باقی سب کے سب کھلے میدان میں دھوپ میں کھڑے ہوتے تھے اور صحن میں اس قدر کنکر ہوتے کی تھے کہ صحابہ کا بیان ہے ہم چار پانچ بار ہاتھ مارتے تھے تب بھی سجدہ کے لئے جگہ صاف نہ ہوتی تھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دیکھا تو فرمایا کہ تین بار تک تم ہاتھ مار سکتے ہو اس سے زیادہ مرتبہ نہیں اور اس معیار کے مطابق تو صدر انجمن احمد یہ اور منتظمین کہہ سکتے ہیں کہ یہاں تو دھوپ اور گرمی نہیں ہوتی اس لئے بغیر سائبان کے اگر بیٹھنا پڑے تو کیا حرج ہے لیکن کی ہر زمانہ کے حالات مختلف ہوتے ہیں اور پھر جب باقی لوگ سائبان کے نیچے بیٹھے ہوں تو دوسروں کو بھی دھوپ میں بیٹھنے میں تامل ہوتا ہے۔ہاں اگر سائبان بالکل ہی ہٹا دیں اور اسی قسم کے حالات سے گزریں جن میں سے صحابہ گزرتے تھے تو یہ جواب صحیح ہو سکتا ہے لیکن جب کچھ لوگ تو آرام سے بیٹھے ہوں تو بعض سے یہ توقع رکھنا کہ وہ دُھوپ میں ہی بیٹھ جائیں ٹھیک نہیں۔اس میں شبہ نہیں کہ جن کو سائبان میں جگہ نہیں ملتی اُن کو یہ جواب دیا جا سکتا ہے کہ تمہیں کس نے کہا تھا تی کہ پہلے نہ آؤ ؟ اگر پہلے آ جاتے تو ضرور اچھی جگہ مل جاتی اور یہ جواب بھی معقول ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ جب انسان کے اندر کمزوری ہو تو ایسے موقع پر اس کا نفس اسے یہ جواب نہیں دیتا کہ دھوپ میں بیٹھنے کی ذمہ داری مجھ پر ہی ہے۔اگر پہلے آجاتا تو سایہ میں جگہ مل جاتی اور چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص نماز کے لئے پہلے آتا اور امام کے کی انتظار میں بیٹھتا ہے اُسے ثواب ملتا ہے۔لے ثواب بھی حاصل کر سکتا اور اس طرح ظاہری آرام کے ساتھ ثواب بھی حاصل ہوتا مگر ہر انسان کا نفس اتنا مکمل نہیں ہوتا کہ اس کے دماغ کو صحیح مشورہ دے اور صحیح راہ پر چلائے۔اس لئے بالعموم انسانی دماغ غلط راہ پر لگاتا ہے اور یہی سمجھتا ہے کہ میں کیوں تکلیف اُٹھاؤں؟ اس لئے جہاں اتنے سائبان بنوائے گئے ہیں وہاں اس خالی جگہ کے لئے بھی بنوائے جا سکتے تھے بلکہ لاہور سے تو دو تین روز میں خریدے جاسکتے تھے اور اگر تیار نہ ملتے تو ہفتہ دو ہفتہ میں تیار کرائے جا سکتے تھے مگر مجھے افسوس ہے اس کی طرف توجہ نہیں کی گئی۔اس کے علاوہ ایک اور سوال بھی ہے اور وہ مسجد مبارک کا ہے اس کی توسیع کے لئے زمین