خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 221

خطبات محمود سال ۱۹۳۹ء مستعد ہو جاتے تھے لیکن منافق باہر نکلتے ہی کہتے تھے کہ مَاذَا قَالَ أَيْفاً لے ابھی ابھی یہ کیا کہہ رہے تھے؟ ہماری جماعت اس بات کی دعویدار ہے کہ وہ خلافت کا احترام کرتی ہے اگر یہ صحیح ہے تو سب سے زیادہ احترام مرکزی انجمن کی طرف سے ظاہر ہونا چاہئے مگر حقیقت یہ ہے کہ وہی سب سے زیادہ میری ہدایات کو نظر انداز کرتی ہے۔اس کی مثال بالکل من چہ سرائم وطنبورہ من چہ مے سرائڈ والی ہے۔طنبورہ کچھ اور کہتا ہے اور بجانے والا کچھ اور بجاتا ہے اور اس کے باوجود ناظر شکایت کرتے ہیں کہ آپ پبلک میں ہمارے خلاف ریمارکس کرتے ہیں اس سے پبلک میں ہماری عزت قائم نہیں ہوتی مگر میں کہتا ہوں کہ خالی عزت کس کام کی جس سے اسلام کو کچھ فائدہ نہ پہنچے۔تم لوگ اپنے طریق کو بدلو پھر خود بخود تمہاری عزت قائم ہو جائے گی جب تک تم اُس ہستی سے اپنے آپ کو وابستہ نہیں کرتے جسے اللہ تعالیٰ نے خلیفہ بنایا ہے اور (امام) بنایا کی ہے میں کتنا ہی کیوں نہ کہوں لوگ تمہاری عزت نہیں کریں گے کیونکہ عزت اللہ تعالیٰ کی طرف کی سے آتی ہے اور خدا تعالیٰ اس شخص کی عزت کس طرح کر سکتا ہے جو اس کے مقرر کردہ خلیفہ کی عزت نہیں کرتا۔جب تک آپ لوگ گوش بر آواز نہیں رہتے اور یہ خیال نہیں رکھتے کہ کیا آواز (امام) کی طرف سے آئی ہے اور پھر اس پر عمل کرنے کے لئے مستعدی سے دوڑ نہیں پڑتے اُس وقت تک آپ لاکھ سر پٹکیں اپنی عزت قائم نہیں کر سکتے۔جس دن آپ لوگ اپنی ذمہ داری کی کو سمجھیں گے اسی دن لوگوں میں بھی آپ کی عزت قائم ہو جائے گی۔اب که صدرانجمن احمد یہ اس کام میں ناکام ہو چکی ہے میں اسے جہاں تک قادیان اور اس کے گردونواح کے دیہات کا تعلق ہے خدام الاحمدیہ کے سپر د کرتا ہوں اور نیشنل لیگ سے بھی خواہش کرتا ہوں کہ وہ اس کام میں اس کی مدد کرے۔گوایسی باتیں اس کے پروگرام میں شامل نہیں لیکن رفاہ عامہ کا کام کرنا اس کا فرض ہے۔پس نیشنل لیگ والے بھی اپنی خدمات ان کے سپرد کر دیں اور وہ تین دن کے اندر اندر ساری قادیان ، بھینی ، کھارا، منگل ، احمد آباد اور قادر آباد سے وصولی کے لئے حلقے مقرر کر کے آنے والی جمعرات کے روز ہر احمدی گھر کے تمام مرد و عورت اور بچہ سے ایک آنہ فی کس کے حساب سے توسیع مساجد کے لئے چندہ وصول کریں۔بچوں کی طرف سے ان کے ماں باپ ادا کریں۔اس سے زیادہ جو دینا چاہے بیشک دے لیکن