خطبات محمود (جلد 20) — Page 149
خطبات محمود ۱۴۹ سال ۱۹۳۹ء پہلے تو جب وہ بہت چھوٹا ہو کہانیوں کے ذریعہ اس کی تربیت ضروری ہوتی ہے۔بڑے آدمی کے لئے تو خالی وعظ کافی ہوتا ہے لیکن بچپن میں دلچسپی قائم رکھنے کے لئے کہانیاں ضروری ہوتی ہیں۔یہ ضروری نہیں کہ وہ کہانیاں جھوٹی ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیں کہانیاں سُنایا کرتے تھے کبھی حضرت یوسف کا قصہ بیان فرماتے ، کبھی حضرت نوع کا قصہ سُناتے اور کبھی حضرت موسیٰ کا واقعہ بیان فرماتے مگر ہمارے لئے وہ کہانیاں ہی ہوتی تھیں گو وہ تھے سچے واقعات۔ایک حاسد و محسود کا قصہ الف لیلیٰ میں ہے وہ بھی سنا یا کرتے تھے۔وہ سچا ہے یا جھوٹا بہر حال اس میں ایک مفید سبق ہے۔اسی طرح ہم نے کئی ضرب الامثال جو کہانیوں کی سے تعلق رکھتی ہیں آپ سے سنی ہیں۔پس بچپن میں تعلیم کا بہترین ذریعہ کہانیاں ہیں گو بعض کہانیاں بے معنی اور بے ہودہ ہوتی ہیں مگر مفید اخلاق سکھانے والی اور سبق آموز کہانیاں بھی کی ہیں اور جب بچہ کی عمر بہت چھوٹی ہو تو اس طریق پر اُسے تعلیم دی جاتی ہے۔پھر جب وہ ذرا ترقی کرے تو اس کے لئے تعلیم و تربیت کی بہترین چیز کھیلیں ہیں۔کتابوں کے ساتھ جن چیزوں کا علم دیا جاتا ہے کھیلوں سے عملی طور پر وہی تعلیم دی جاتی ہے مگر کہانیوں کا زمانہ کھیل سے نیچے کا زمانہ ہے لیکن کوئی عقلمند کبھی یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کے بچوں کو کہانیاں سُنا نا کہانیاں بتانا کلی طور پر کسی جاہل کے سپرد کر دیا جائے یا بچوں ہی کے سپر د کر دیا جائے بلکہ اس کام پر ہر قوم کے بڑے بڑے ماہرین فن لگے رہتے ہیں۔دُنیا کے بہترین مصنف جو لاکھوں روپے سالانہ کماتے ہیں وہ کہانیاں ہی لکھتے ہیں گواب بہت سی کہانیاں بڑے لوگوں کو مد نظر رکھ کر لکھی جاتی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ کہانیاں اگر بڑے لوگوں کے لئے ہوں تو وہ بھی بچپن ہی سے تعلق رکھتی ہیں کیونکہ درحقیقت وہ انسان کی بچپن کی حالت سے ہی تعلق رکھتی ہیں کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان پر بڑی عمر میں بھی بچپن کے زمانہ کے دورے آتے رہتے ہیں اور اُسی وقت وہ کہانیوں کی کی طرف راغب ہوتا ہے یعنی اُس کا دماغ تھک کر سنجیدہ اور مشکل طریق پر دُنیا سے سبق حاصل کی کرنے کے قابل نہیں رہتا اور اس وقت وہ چاہتا ہے کہ کہانیوں کے ذریعہ سے دُنیا کے تجارب اور علوم حاصل کرے۔پس وہ بھی بچپن کے مشابہ ایک حالت ہے اور اس کام کے لئے قوموں کے بہترین دماغ کی