خطبات محمود (جلد 20) — Page 148
خطبات محمود ۱۴۸ سال ۱۹۳۹ء ہر حالت میں کام کر سکتا ہے۔مگر بعض حالات میں قوت برداشت بھی کمزور ہوتی ہے اور ظاہری کی عوارض بھی لگے ہوتے ہیں ایسا انسان بیماری کے ساتھ دماغی قابلیت بھی کھوتا چلا جاتا ہے۔عام قانون یہی ہے کہ جو اوسط درجہ کی قوت برداشت کا انسان ہو اُس کی خرابی صحت کے ساتھ دماغ پر بُرا اثر ضرور پڑتا ہے۔کم سے کم شستی کسل اور ہمت کی کمی ضرور پیدا ہو جاتی ہے اور کسل سُستی اور ہمت کی کمی بھی ایسے امور ہیں کہ اگر کسی قوم میں پیدا ہو جائیں تو خطرناک نتائج ظاہر ہونے لگتے ہیں۔یہ بات ظاہر ہی ہے کہ خواہ قوت برداشت کیسی ہو بیماری میں انسان بعض کام نہیں کر سکتا مثلاً اگر نظر کمزور ہو تو خواہ دماغی قابلیت کتنی ہی زبر دست کیوں نہ ہو ا نسان لڑائی کے قابل نہیں ہوتا اور وہ فوج میں بھرتی کے لئے موزوں نہیں سمجھا جاتا کیونکہ فوج کے لئے جس قسم کی قوت کی ضرورت ہے وہ اُسے حاصل نہیں ہوتی اور یہ ایک ایسی بات ہے جس کا خصوصاً بچپن میں لحاظ رکھنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔ورزشوں کی عادت جو ڈالی جاتی ہے وہ اسی لئے ہوتی ہے کہ انسان کے جسم میں چستی اور پھرتی پیدا ہو اور اُس کے اعضاء درست رہیں اور اس کی ہمت بڑھے۔ورزش سے پسینہ آتا ہے جس سے بہت سے زہر دور ہوتے ہیں اور اس لئے ورزش کو نظر انداز کر کے کلی طور پر بچہ کو دماغی کام میں لگانا دماغ کو کمزور کرنے کا موجب ہوتا ہے۔بچپن میں کھیل کود اور ورزش انسان کی فطرت میں اسی لئے رکھی گئی ہے تا کہ اُس کی جسمانی قوت برداشت بڑھ جائے۔اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اَلصَّبِيُّ صَبِيٌّ وَ لَوْ كَانَ نَبِيًّا یعنی بچہ بچہ ہی ہے خواہ وہ آئندہ نبی ہونے والا ہو۔بے شک و چند سالوں کے بعد نبی بن جائے گا مگر بچپن کی حالت میں اُس کی خواہشات ضرور ایسی ہی ہوں گی جو بچپن سے مناسبت رکھتی ہوں گی۔وہ کھیلے گا بھی ، گو دے گا بھی اور اُن تمام حالات سے گزرے گا جن میں سے بچے عام طور پر گزرتے ہیں۔بچپن کی حالت کے لئے جو لوازم مخصوص کی ہیں کوئی بچہ خواہ بڑا ہو کر نبی ہونے والا ہو وہ بھی اُن میں سے ضرور گزرے گا اور اُس کی یہی حالت بعد کی زندگی میں اُس کے لئے کسی اعتراض کا موجب نہیں ہوسکتی۔پس اس عمر میں ورزش کے ذریعہ بچہ کی تربیت اشد ضروری ہوتی ہے اور اُسے کلی طور پر دماغی کام میں لگا دینا خطر ناک ہوتا ہے۔اس زمانہ میں اُس کی صحیح تربیت کا طریق وہی ہے جو اُ سے کھیل کو دسکھائے۔60