خطبات محمود (جلد 20) — Page 150
خطبات محمود ۱۵۰ سال ۱۹۳۹ء لگے رہتے ہیں اور یہ کافی نہیں سمجھا جاتا کہ کم علم اور جاہل لوگ اس کام کو کر میں لیکن تعجب ہے کہ ی کریں اس کے بعد کے زمانہ کی تعلیم کے انتظام کے لئے جو کھیل کا زمانہ ہے اور جس میں کھیل کے ذریعہ علم کا سکھانا ضروری ہوتا ہے اور اس عمر کے لئے جب بچہ علم کی سب سے مضبوط بنیا د قائم کر رہا ہوتا ہے ایسے جاہلوں پر بچوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے جو انسانی فطرت کا مطالعہ کرنے کی قابلیت ہی نہیں رکھتے۔یہ ایسی ہی بات ہے کہ جیسے کوئی شخص اپنے بچہ کے لئے جب وہ بہت چھوٹی عمر کا ہو اعلی درجہ کے درزی سے سوٹ سلوائے مگر جب وہ بڑا ہو کر سوسائٹی میں ملنے جلنے لگے تو اُس کی کے کپڑے کسی گاؤں کی درزن سے سلوائے حالانکہ چھوٹا بچہ تو جیسے بھی کپڑے پہن لے کوئی حرج نہیں ہوتا لیکن بڑا ہو کر کپڑوں کا خاص خیال رکھنا پڑتا ہے۔بعض پابندیاں بڑے آدمیوں کے لباس کے لئے قانون کی طرف سے ہوتی ہیں ، بعض اصولِ صحت کی طرف سے اور بعض سوسائٹی کی کی طرف سے اور وہ اُن کا خیال رکھنے کے لئے مجبور ہوتا ہے مگر کس قدر عجیب بات ہوگی کہ اس کی زمانہ کا لباس تو کسی اناڑی کے سپر د کر دیا جائے مگر جب وہ بہت چھوٹا بچہ ہو تو اُس کے لئے اعلیٰ درجہ کے درزی سے سوٹ سلوائے جائیں۔بچپن کے زمانہ میں پہلا زمانہ وہ ہوتا ہے جب بچے کو کہانیوں کے ذریعہ دلچسپی پیدا کی جاتی اور تعلیم دی جاتی ہے۔اس زمانہ کے متعلق دُنیا کا متفقہ فیصلہ ہے کہ اعلیٰ درجہ کی دماغی قابلیت رکھنے والوں کے سپرد یہ کام ہونا چاہئے اور اس بات کو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے اور اس بات کو نہایت ضروری اور مناسب سمجھتے ہیں کہ کہانیوں کو ایسے رنگ میں بچہ کے سامنے پیش کیا جائے کہ جس سے وہ زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھا سکے اُسے ایسی کہانیاں سُنائی جائیں جو اُس کے اخلاق کو بلند ، نظر کو وسیع اور اس کے اندر ہمت پیدا کرنے والی ہوں اور اُس کے اندر قومی ہمدردی کا مادہ پیدا کریں مگر اس کے بعد کا زمانہ جو زیادہ اہم ہوتا ہے اور جو کھیل کود کا زمانہ ہے۔حیرت ہے کہ بنی نوع نے اس کی ضرورت اور اہمیت کو محسوس ہی نہیں کیا کہ وہ بھی اسی طرح اعلیٰ درجہ کے لوگوں کی نگرانی میں ہونا چاہئے۔کہانیوں کی کے متعلق تو یہ خیال رکھا جاتا ہے کہ وہ اعلیٰ درجہ کے دماغوں اور فاضل لوگوں کی تیار کردہ ہوں اور ایسے رنگ کی ہوں کہ جس سے بچوں کو فائدہ پہنچے مگر کھیل کے زمانہ کا کوئی خیال ہی نہیں رکھا جاتا اور یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ کھیل کو د بچوں کا کام ہے بڑوں کا اس میں دلچسپی لینا