خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 124 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 124

خطبات محمود ۱۲۴ سال ۱۹۳۹ء لاعلمی ظاہر کی کہ ہمیں نہیں معلوم کون خیمہ کے پاس گیا اور چھتری مانگ کر لے گیا۔غرض کچھ معلوم نہ ہو سکا کہ وہ کون شخص تھا ؟ کوئی چور تھا یا کوئی دُشمن تھا جو صرف یہ بتانے کے لئے اندر آیا تھا کہ تمہارے پہروں کی کوئی حقیقت نہیں۔کیونکہ ایسے شخص کو چھتری لینے سے کیا حاصل ہوسکتا تھا۔اس کی غرض محض یہ بتانا ہو گی کہ تم اتنے غافل ہو کہ میں تمہارے گھر کے اندر داخل ہو کر ایک چیز اُٹھا سکتا ہوں۔اگر کسی مصلحت یا اخلاق کی وجہ سے میں نے تم پر حملہ نہیں کیا تو اور بات ہے ورنہ میں اندر ضرور داخل ہو گیا ہوں اور تمہاری ایک چیز بھی اُٹھا کر لے آیا ہوں مگر تمہیں اس کی خبر تک نہیں ہوئی۔بہر حال مجھے جب یہ بات معلوم ہوئی تو میں نے اس پر اظہار ناراضگی کیا اور کہا کہ ایسے پہرے کا فائدہ کیا ہے؟ اس پر وہی آدمی جس کا میں نے ذکر کیا ہے کہنے لگا کہ اگر مجھے پتہ لگ جائے کہ آپ نے وہ چھتری کہاں سے خریدی تھی تو میں ویسی ہی چھتری خرید کر آپ کی خدمت میں پیش کر دوں۔اب دیکھو یہ کتنی کمینہ اور ذلیل ذہنیت تھی اس شخص کی کہ اس نے میری ناراضگی کی حقیقت کو سمجھنے کی تو کوشش نہ کی اور یہ سمجھا کہ میری ناراضگی چھتری کے نقصان کی وجہ سے ہے۔حالانکہ میری ناراضگی کی وجہ تو یہ تھی کہ جب تم ایک ذمہ داری کا کام لیتے ہو تو تمہارا فرض ہے کہ اس کام کی کو پوری تندہی اور خوش اسلوبی کے ساتھ سرانجام دو اور اگر تم وہ کام نہیں کر سکتے تو تمہارا اس کی کی بجا آوری کے لئے ذمہ داری قبول کرنا حماقت ہے مگر اس نے سمجھا کہ میری خفگی اس لئے ہے کہ میری چھتری گم ہوگئی ہے اور وہ کہنے لگا کہ اگر مجھے پتہ لگ جائے کہ آپ نے چھتری کہاں کی سے خریدی تھی تو میں ویسی ہی چھتری خرید کر آپ کو دے دوں۔اب یہ اتنی کمینہ ذہنیت ہے کہ مجھے اس کا خیال کر کے اب بھی پسینہ آجاتا ہے اور میں حیران ہوتا ہوں کہ کیا اتنا ذلیل اور کمینہ انسان بھی کوئی ہو سکتا ہے۔وہ احمدی تھا گو بعد میں عملاً مرتد ہو گیا مگر بہر حال وہ کہلاتا ہے احمدی تھا۔تو ہندوستانیوں میں یہ ایک نہایت ہی احمقانہ بات پائی جاتی ہے کہ وہ کبھی بھی چاروں طرف نگاہ نہیں ڈالیں گے۔میں اگر مثالیں دوں تو چونکہ بہت سے لوگوں پر زد پڑتی ہے اس لئے فوراً پتہ لگ جائے گا کہ یہ فلاں کی بات ہو رہی ہے اور یہ فلاں کی۔پس میں مثالیں نہیں دیتا۔