خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 123 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 123

خطبات محمود ۱۲۳ سال ۱۹۳۹ء فضل ہے کہ میرے دل میں کبھی مایوسی پیدا نہیں ہوئی لیکن اگر کبھی میرے دل میں مایوسی کے مشابہ کوئی کیفیت پیدا ہوئی ہے تو وہ اسی حالت پر ہوئی ہے جو ہندوستانیوں میں عام طور پر پائی جاتی ہے اور جس سے احمدی بھی منتقلی نہیں کہ وہ چھوٹے سے چھوٹے کام میں بھی کبھی نظام کے مطالبہ کو پورا نہیں کر سکتے۔میں نے ہمیشہ سفروں میں دیکھا ہے باوجود اس کے کہ عملہ کے ۷، ۸ آدمی ساتھ ہوتے ہیں اور معمولی سو پچاس کے لگ بھگ چیزیں ہوتی ہیں۔وہ ضرور کچھ نہ کچھ سامان پھینک کر آ جاتے ہیں اور جب پوچھا جاتا ہے تو ایک کہتا ہے میں نے سمجھا تھا اس کا دوسرے نے خیال رکھا ہو گا اور دوسرا کہتا ہے میں نے سمجھا تھا اس کا خیال فلاں نے رکھا ہوگا۔یہ عجیب نادانی ہے کہ ہر شخص دوسرے کو ذمہ دار قرار دیتا ہے۔جب تم اتنا کام بھی نہیں کر سکتے تو تم ساری دُنیا کو کہاں سنبھال سکو گے؟ مگر اس کی وجہ محض بے تو جہی ہے اور پھر میں نے دیکھا ہے جب انہیں نصیحت کی جائے تو وہ ایک دوسری نادانی کے مُرتکب ہو جاتے ہیں اور خیال کرنے لگتے ہیں کہ شاید اپنے نقصان کی وجہ سے انہیں غصہ چڑھا ہوا ہے حالانکہ مجھے غصہ ان کی ذہانت کے فقدان پر آ رہا ہوتا ہے۔ہماری جماعت میں ایک شخص ہوا کرتا تھا اب تو وہ مر گیا ہے اور مرا بھی بُری حالت میں ہے۔اس نے ایک دفعہ کچھ اور دوستوں سمیت میرے پہرے کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا۔میں خود تو کسی کو پہرہ کے لئے نہیں کہتا لیکن جب کوئی پہرہ کے لئے اپنی خوشی سے آ جائے تو اُسے روکتا بھی نہیں۔اس وقت ہم نہر پر گئے ہوئے تھے اور ہمارا خیمہ ایک طرف لگا ہوا تھا اُس نے کہا کہ ہم آپ کا پہرہ دیں گے۔گرمیوں کے دن تھے مجھے تھکان محسوس ہوئی اور میں خیمہ میں جا کر سو گیا۔تھوڑی دیر کے بعد جب میں اُٹھا تو میں نے گھر والوں سے دریافت کیا کہ خیمہ میں جو میری چھتری لٹک رہی تھی وہ کہاں گئی ؟ اُنہوں نے کہا کہ ہم لوگ تو باہر گئے ہوئے تھے اور کی ابھی واپس آئے ہیں۔ہمیں معلوم نہیں کہ کون لے گیا۔خادمہ سے دریافت کیا تو وہ کہنے لگی کہ ایک آدمی خیمہ کے پاس آیا تھا اور اُس نے کہا تھا کہ حضرت صاحب کی چھتری دے دو چنانچہ میں نے چھتری اُٹھا کر اُسے دے دی۔میں نے جب باہر جا کر دریافت کیا تو ہر ایک شخص نے