خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 493 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 493

3% الله ۴۹۳ ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ پھر مسلمانوں میں سے بعض جہازوں پر بیٹھ کر امریکہ چلے گئے جہاں اب تک بھی ایک پرانی مسجد باقی ہے اور کولمبس ۳ نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ میں نے جو امریکہ دریافت کیا ہے تو اس کی اصل تحریک مجھے ایک مسلمان بزرگ کی تحریر سے ہوئی ہے اس کا اشارہ حضرت محی الدین صاحب ابن عربی آہ کی طرف تھا۔انہوں نے اپنی کتاب "فتوحات مکیہ " میں لکھا ہے کہ میں نے مغرب کی طرف دیکھا تو مجھے نظر آیا کہ سمندر کے پرے ایک اور ملک بھی ہے۔چنانچہ جب لوگوں نے کولمبس پر اعتراض کیا اور بادشاہ نے اس کو روپیہ دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ تجھے وہم ہو گیا ہے اور تو پاگل ہے تو اس نے کہا نہیں میں نے یہ بات ایسے لوگوں سے سنی ہے جو کبھی جھوٹ نہیں بولتے یعنی مسلمانوں سے اور پھر انہوں نے بھی یہ بات اپنے ایک بہت بڑے بزرگ کے حوالہ سے کسی ہے اس لئے میں ضرور کامیاب ہوں گا اگر ناکام واپس آیا تو آپ کا اختیار ہے کہ جو چاہیں مجھے سزا دیں۔آخر ملکہ نے اپنے زیور بیچ کر اس کے لئے روپیہ مہیا کیا۔پادری اس وقت اتنے احمق تھے کہ ایک پادری نے دربار میں تقریر کی کہ یہ تو پاگل ہو گیا ہے اور عیسائیت کے خلاف تقریریں کرتا ہے۔اُس وقت پادریوں کا خیال تھا کہ زمین چپٹی ہے گول نہیں اس نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اگر زمین گول ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی علاقہ اور بھی ہے جہاں انسانوں کا سر نیچے ہوتا ہے اور ٹانگیں اوپر اور بارش بھی اوپر سے نیچے کو نہیں ہوتی بلکہ نیچے سے اوپر ہوتی ہے اولے بھی نیچے سے اوپر گرتے ہیں اور یہ ساری حماقت کی باتیں ہیں۔لیکن آخر وہی کامیاب ہوا۔غرض میں نے لوگوں سے کہا کہ دیکھو رسول کریم میں ایم کے صحابہ یا تو اتنے کمزور اور ناطاقت تھے کہ سارے عرب میں دس ایرانیوں یا دس رومیوں کا مقابلہ کرنے کی بھی طاقت نہیں تھی یا وہ دن آیا کہ وہ اسلام کے سیاہ جھنڈے ہاتھوں میں لے کر نکلے اور دنیا کے گوشہ گوشہ میں پھیل گئے اور رسول کریم متی و لیوی کی وفات پر ابھی پندرہ سال کا عرصہ ہی گزرا تھا کہ مسلمان ہندوستان اور چین تک جاپہنچے۔تم کو بھی چاہئے کہ چھوٹے چھوٹے سیاہ جھنڈے بنالو اور وقف جدید کے جو مجاہد ہیں وہ دنیا میں پھیل جائیں اور اسلام کا جھنڈا ہر جگہ گاڑ دیں یہاں تک کہ ساری دنیا میں اسلام کی حکومت قائم ہو جائے اور گو یہ حکومت سیاسی نہیں ہوگی بلکہ دینی اور مذہبی ہوگی کیونکہ یہ لوگ دوسروں کو پڑھائیں گے اور علاج معالجہ کریں گے اور دین سکھائیں گے مگر پھر بھی ان کے ذریعہ اسلام کا ایک نشان قائم رہے گا۔دیکھ لو بعض علاقے ایسے