خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 492 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 492

۴۹۲ (۴۶) فرموده ۲۱۔اپریل ۱۹۵۸ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ) کچھ دن ہوئے میں نے رویا میں دیکھا کہ ایک مجلس ہے اور بہت سے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔میں ان میں بڑھتا چلا جاتا ہوں چلتے چلتے میں نے دیکھا کہ آگے قاضی ظہور الدین صاحب اکمل لے بیٹھے ہوئے ہیں اور میں ان کے پاس سے ہو کر گذرا ہوں۔میں نے اس کی یہ تشریح کی کہ الدین سے مراد اسلام ہے جیسا کہ قرآن کریم میں ہے اللہ تعالٰی فرماتا ہے اِنَّ الدِّيْنَ عِندَ اللهِ الْاِسلام کے پس اس لحاظ سے ظہور الدین اکمل کے یہ معنی ہونگے کہ ظہور الاسلام اکمل۔یعنی خدا تعالیٰ نے ارادہ کر لیا ہے کہ وہ اسلام کو دنیا میں کامل طور پر غالب کرے۔یہ ایک بہت بڑی خوشخبری ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس عید کے دن جب کہ سب لوگ اپنے اپنے دوستوں کو تحفے دیتے ہیں اس غریب جماعت کو یہ تحفہ دے کر اس کے ہاتھوں سے اسلام کو دنیا پر غالب کرے اور کامل طور پر غالب کرے یہاں تک کہ دنیا میں خدا تعالی کو رسول کریم ملی کو اور اسلام کو بُرا کہنے والا کوئی باقی نہ رہے۔تمام کے تمام ایمان لانے والے ہوں اور اپنے ایمان اور اخلاص کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی توحید اور خدا تعالی کی شان کے بڑھانے اور اسے پھیلانے والے ہوں۔پھر چند روز ہوئے میں نے دیکھا کہ میں ایک مجلس میں بیٹھا تقریر کر رہا ہوں ذہن میں تو نہیں مگر وہ ایسا ہی مجمع ہے جیسے عید کا مجمع ہوتا ہے اور میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ دیکھو گو اس وقت تلوار کا جہاد نہیں ہے مگر تبلیغ کا جہاد ہے جو تلوار کے جہاد سے زیادہ آسان ہے۔تم رسول کریم معلم کے صحابہ کو دیکھو کہ انہوں نے ایمان لانے کے بعد ایسا اخلاص دکھایا کہ یا تو وہ اتنے بتوں کو پوجتے تھے کہ ہر دن میں ایک ایک بت آجاتا تھا اور یا پھر وہ توحید کا جھنڈا اٹھا کر دنیا میں نکل گئے اور اس کے کناروں تک پھیل گئے انہوں نے ایران فتح کیا، عرب فتح کیا افغانستان فتح کیا اور پھر سندھ کے ذریعہ سے ہندوستان فتح کیا، پھر مصر فتح کیا، پھر ٹیونس اور مراکش فتح کیا، پھر ہسپانیہ فتح کیا، پھر تاریخوں سے ثابت ہے اور بعض آثار قدیمہ بھی ایسے ملتے