خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 35

۳۵ بنانے میں غلطی کی تھی۔تو انسان کے خیال میں بعض اوقات جلدی ہی تغیر آجاتا ہے۔وہ ایک خیال کے ماتحت اپنے لئے حقیقی خوشی سمجھتا ہے مگر دراصل وہ عارضی خوشی ہوتی ہے اور نہایت ہی عارضی ہوتی ہے اور اس کے بعد فور ارنج اور افسوس آجاتا ہے۔لیکن وہ شخص جو اپنے مال دولت جائداد و غیرہ کو ایسی جگہ صرف کرتا ہے کہ جس سے اسے دائمی خوشی حاصل ہو اس کے دل میں کبھی رنج نہیں آتا۔پس تم لوگ یہ مت خیال کرو کہ اگر تم دین کے لئے اپنے مال اپنی دولت اپنی جائداد خرچ کرو گے تو بعد میں پچھتاؤ گے بلکہ یہ یقین رکھو کہ خوش ہو گے کیونکہ پچھتاوا دنیاوی اخراجات پر ہوا کرتا ہے کہ ان سے عارضی خوشی حاصل ہوتی ہے مگر دین کے راستہ میں خرچ کرنا اُس عید کا باعث بنتا ہے جو سب سے بڑی عید ہے اور جس کا نتیجہ کامیابی و ظفر مندی ہے اس لئے اس کا رنج نہیں ہو سکتا۔حضرت مسیح نے کیا ہی خوب کہا ہے کہ تم اپنے پاس غلہ جمع کرتے ہو۔جہاں سے چوہے کھا جاتے ہیں۔لیکن خدا کے حضور جمع نہیں کرتے۔جہاں کوئی چوہا نہیں کھا سکتا۔19۔پس تم یہ مت خیال کرو کہ خدا کے راستہ میں مال خرچ کرنے سے تمہارا مال ضائع ہو جائے گا۔ضائع نہیں جائے گا بلکہ وہ تمہارے لئے حقیقی خوشی کا باعث ہو گا اس لئے اپنے طریق عمل میں اصلاح کرو اور جو کچھ پہلے کر رہے ہو اس سے آگے بڑھو۔بہت لوگ ہوتے ہیں جو یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے پچھلے سال اس قدر چندہ دیا تھا اب کیا دیں۔حالانکہ انہیں چاہئے کہ اس سال پہلے سال کی نسبت اور زیادہ دیں اور پہلے کی نسبت اور زیادہ آگے بڑھیں۔دیکھو ایک ڈاکٹر جس وقت کام شروع کرتا ہے تو ابتداء میں وہ ایسا عمدہ نہیں کرتا لیکن جوں جوں اسے زیادہ مشق ہوتی جاتی ہے وہ زیادہ صفائی اور عمدگی سے کام کرتا ہے۔ہاں اگر غور نہ کرے تو اور بات ہے۔اسی طرح وہ انسان جو خدا کے لئے خرچ کرتا ہے وہ بھی پہلے کی نسبت بہت زیادہ فراخدلی سے خرچ کرتا ہے اور جوں جوں خرچ کرتا ہے اس کے لئے اور زیادہ جوش اور ولولہ پیدا ہوتا جاتا ہے۔پس اگر تم لوگ خدا کے لئے خرچ کرتے ہو تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ تمہارے دل میں دوسرے وقت خرچ کرنے کے لئے پہلے کی نسبت اور زیادہ تحریک ہو اور اگر زیادہ تحریک نہیں ہوتی تو سمجھ لو کہ پہلے تم نے جو کچھ دیا تھا وہ خدا کے لئے نہیں بلکہ کسی اور وجہ سے دیا تھا اور وہ ضائع ہو چکا ہے۔ایسی صورت میں تو اور بھی زیادہ خرچ کرنا چاہئے۔اگر کوئی ایک سال خدا کے لئے کچھ دیتا ہے تو اگلے سال اس سے اور زیادہ دے گا۔جس طرح ایک پیشہ ور پہلی دفعہ کام کرنے سے دوسری