خطبات محمود (جلد 1) — Page 36
دفعہ اس سے اچھا کرتا ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ کے راستہ میں دینے والا جب ایک دفعہ دیتا ہے۔تو اسے جو خوشی حاصل ہوتی ہے دوسری دفعہ دیتے ہوئے اس سے زیادہ ہوتی ہے۔اور تیسری دفعہ اس سے بھی زیادہ۔لیکن جو شخص یہ دیکھے کہ پہلے دینے کے بعد اس کے دل میں رنج اور تکلیف محسوس ہوئی ہے وہ سمجھ لے کہ اس نے خدا کے لئے نہیں دیا تھا اور اس کے دل کا رنج محسوس کرنا بتاتا ہے کہ جو کچھ دیا تھا وہ ضائع ہو چکا ہے۔اس کے لئے اور بھی ضروری ہے کہ مرنے سے پہلے پہلے خدا کی راہ میں جس قدر زیادہ دے سکے دے۔غرض تم لوگ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لو کہ آنے والی عید تمہارے اپنے ہاتھوں میں ہے۔تم جتنی جلدی اسے لانا چاہو لا سکتے ہو۔اگر تم نے اپنی جانوں اور مالوں کے ذریعہ اس کے لانے کی کوشش نہ کی تو کوئی اور قوم ہوگی جو اس کو لائے گی مگر اس وقت خوشی اسی کے لئے ہوگی نہ کہ تمہارے لئے۔تمہارے لئے تو وہ دن ماتم کا دن ہو گا۔پس تم اس بات کے لئے کوشش کرو کہ آنے والی عید تمہارے لئے عید کا دن ہو اور تمہاری ہی زندگی میں آجائے۔وہ دن آئے گا تو ضرور کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِهِ - که اسلام کا غلبہ ہو گا اور ضرور ہو گا۔کوئی بڑی سے بڑی حکومت اس کے مقابلہ کے لئے کھڑی نہیں ہو سکتی۔اگر ساری دنیا بھی اس کے خلاف کھڑی ہو جائے تو اس طرح مسل دی جائے گی جس طرح تازہ گھاس مسل دی جاتی ہے کیونکہ اسلام کا مقابلہ نہ دنیا کا مال کر سکتا ہے نہ تلوار نہ توپ نہ جہاز کیونکہ اسلام خدا کے ہاتھ کے سہارے کھڑا ہوا ہے۔اب اس کو کوئی نہیں بٹھا سکتا یہ کھڑا ہی رہے گا اور سوائے شقی ازلی روحوں کے باقی سب اس کی صداقت اور حقانیت کو قبول کر لیں گی اور تمام دنیا میں اسلام ہی اسلام پھیل جائے گا۔پس جب وہ دن آئے گا تو حقیقی عید اور خوشی ہوگی مگر ان کے لئے جن کے ہاتھوں اسلام پھیلے گا۔اور افسوس اور ماتم ہو گا ان کے لئے جن کو اس بات کا موقع تو دیا گیا تھا مگر انہوں نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا۔تم لوگ اس بات کی کوشش کرو کہ جو موقع تمہیں نصیب ہے اس سے فائدہ اٹھا لو۔تمہارے سامنے حقیقی خوشی اور جنت ہے کوشش کرو کہ اس کو حاصل کر لو۔مگر دوزخ بھی تمہارے قریب ہی ہے۔ذرا پاؤں لڑکھڑایا اور اس میں گر پڑے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ پل صراط کی طرح ہے۔اگر تم نے کوشش اور ہمت سے کام لیا تو جنت میں داخل ہو گئے اور ذرا بے احتیاطی کی تو دقبال کے درزخ میں گر پڑے۔پس تم ہوشیار ہو جاؤ۔مال کا خدا کی راہ میں خرچ کرنا چیز ہی کیا