خطبات محمود (جلد 1) — Page 34
سلام سلام کیونکہ اس سے زیادہ لذت اور کسی خوشی میں نہیں ہے۔آپ لوگ اپنے نفسوں پر غور کریں اور اس بات کے لئے تیار ہو جائیں کہ جہاں تک تمہاری طاقت اور ہمت ہے خدا کے جلال قدرت شان شوکت اور بڑائی کے ظاہر کرنے میں صرف کر دو اور سب بھولے بھٹکوں کو ایک جگہ جمع کر کے لے آؤ۔تم اس بات سے خوب واقف ہو کہ جب تم میں کوئی نیا آدمی آکر ملتا ہے تو تمہیں کس قدر خوشی ہوتی ہے لیکن جب سارے کے سارے سعید الفطرت لوگ تم میں شامل ہو جائیں گے تو اس وقت تمہاری خوشی کی کیا انتہا ر ہے گی۔پس تم میں سے ہر ایک کا یہ فرض ہے کہ اپنے حلقہ اثر میں تبلیغ کی کوشش کرے اور جو کوئی عام تبلیغ نہیں کر سکتا وہ اپنے مال سے اپنی جان سے اپنی عزت سے اپنی آبرو سے اپنے اثر سے کام لے۔یہ سب چیزیں دین کے مقابلہ میں بیچ ہیں۔سب سے پیاری چیز مال کو سمجھا جاتا ہے لیکن یہ میل سے نکلا ہے ۱۸ یعنی جھک جانے والی چیز ہے۔پس دنیا کا مال دنیا کی آرائشیں اور آسائشیں عارضی ہیں۔ایک وقت آتی اور دوسرے وقت چلی جاتی ہیں۔وہ نادان جو یہ سمجھتا ہے کہ اگر میں دین کے لئے مال خرچ کروں گا تو مجھے کوئی فائدہ نہیں ہو گا سخت غلطی پر ہے آج ہی مجھے دل میں ایک خیال آنے سے ہنسی آگئی۔میں نے دیکھا چھوٹے بچے کپڑے بدل رہے ہیں اور ہر بچہ یہی چاہتا ہے کہ اس کی ہر ایک چیز نئی ہو۔ذرا پرانی ہو۔تو اسے پرے پھینک دیتا ہے۔مجھے اس بات پر ہنسی آئی کہ کبھی ہم بھی اسی طرح کرتے ہوں گے۔لیکن اب یہ باتیں لغو معلوم ہوتی ہیں۔اُس وقت تو اپنی ساری خوشی اسی میں سمجھی جاتی ہوگی کہ اچھے اچھے کپڑے پہن لیں لیکن اب ان باتوں کا خیال کرتے ہوئے بھی شرم آجاتی ہے۔کیوں؟ اس لئے کہ انسانی خیالات بدلتے رہتے ہیں اور ان میں ایک تغیر عظیم آتا رہتا ہے اس لئے اگر ہر ایک انسان اپنی موجودہ حالت پر ہی غور کرے تو سمجھ سکتا ہے کہ بعض باتیں ایسی ہوں گی جن پر آج سے کچھ عرصہ بعد مجھے شرم آئے گی۔پھر بہت سے انسان ایسے ہوتے ہیں کہ ہر ایک چیز جسے وہ اچھا سمجھتے ہیں چاہتے ہیں کہ لذت اور مزے کے لئے کھالیں مگر کھانے کے بعد وہ افسوس کرتے ہیں کہ کیوں ہم نے کھائی۔پہلے تو وہ اپنی خواہش کے غلام ہو جاتے ہیں لیکن جب اس سے آزاد ہوتے ہیں تو پتہ لگتا ہے کہ ہم نے اچھا نہیں کیا۔اسی طرح بعض لوگ کپڑوں پر خرچ کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے اس قسم کے کپڑے نہ پہنے تو ہماری عزت نہیں رہے گی لیکن جب وہ کپڑے پھٹنے لگتے ہیں تو افسوس کرتے ہیں کہ ہم نے اس قدر زیادہ قیمت کے کپڑے