خطبات محمود (جلد 1) — Page 307
٣٠٧ ہوتا اس لئے وہ خلافِ توقع نکل آتا ہے اور ان باتوں سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی ایسی چیز ہونی چاہئے جو غلطیوں کو آپ ہی آپ درست کرتی رہے۔نماز انسان پوری احتیاط سے پڑھے اس کا ترجمہ بھی پوری طرح سیکھ لے ، قیام ، سجدہ ، رکوع ہر حرکت شریعت کی بتائی ہوئی ہدایات کے مطابق کرے پھر بھی جب وہ نماز کے لئے کھڑا ہو تو کوئی شخص قریب ہی شور مچانا شروع کر دے تو اس کی توجہ ضرور خراب ہو جائے گی اور اس طرح نماز میں ضرور نقص رہ جائے گا اور یہ بات اس کے اختیار میں نہیں کہ یہ شور نہ ہونے دے۔بے شک اس کی نیت درست ہو مگر بیرونی شور توجہ کو ضرور خراب کر دے گا۔بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ عام لوگوں کا حال ہے کہ بیرونی شور و شر نماز کی توجہ کو خراب کر دیتا ہے بزرگوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا بلکہ ان کو تو پتہ بھی نہیں ہو تا کہ کیا ہو رہا ہے اور کئی اس قسم کے قصے بھی بنائے ہوئے ہیں۔کہتے ہیں ایک مرتبہ امام حسین " لاء کو جب کہ وہ نماز میں تھے بچھو نے کاٹ لیا مگر انہیں اس کا پتہ ہی نہ لگ سکا۔نماز سے فارغ ہوئے تو معلوم ہوا کہ بچھونے کاٹا ہے۔یہ تو ہو سکتا ہے کہ کسی بزرگ کی کوئی نماز ایسی ہو لیکن یہ بات کہ کسی بڑے سے بڑے بزرگ کی ہر نماز ایسی ہوتی ہے بالکل صریح جھوٹ ہے اس لئے کہ رسول کریم میں میں نے ایک موقع پر خود فرمایا کہ میری نماز خراب ہو گئی۔آپ نماز پڑھا رہے تھے کہ کسی بچے نے رونا شروع کر دیا آپ نے نماز جلدی جلدی پڑھائی اور فرمایا کہ اس کی ماں اسے کیوں نہیں پکڑتی اس کے رونے کی وجہ میری نماز خراب ہو گئی۔کا، اور جب رسول کریم ملی دلیل اللہ کی نماز کا یہ حال ہو تو کسی بڑے سے بڑے بزرگ کے متعلق یہ کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ اس پر بیرونی شور و نشر کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔اگر یہ ممکن ہو تا تو رسول کریم ملی میل کے لئے اس کا سب سے زیادہ امکان تھا۔مگر جب آپ نے فرمایا کہ میری نماز خراب ہو گئی تو کوئی دوسرا کیونکر یہ دعوی کر سکتا ہے۔اسی طرح ایک موقع پر رسول کریم میں نے نماز پڑھتے ہوئے ہی دروازہ کھول دیا۔۱۳، پھر ایک اور موقع پر آپ نے نماز پڑھتے ہوئے حضرت زینب ہی حملہ کی بچی یعنی اپنی نواسی کو اٹھایا۔سجدہ میں جاتے تو اتار دیتے اور کھڑے ہوتے تو اٹھا لیتے۔کھلا اگر نماز میں پتہ ہی نہیں ہو تا کہ کیا ہو رہا ہے تو آپ یہ سب کچھ کس طرح کر سکتے تھے۔تو یہ سب باتیں غلط ہیں بے شک غیر معمولی طور پر جذب کی کیفیت بھی ہوتی ہے مگر وہ شاذ ہوتی ہے۔پھر یہ بھی صحیح ہے کہ عام لوگوں اور بزرگوں کی نمازوں میں ایک حد تک ضرور فرق ہوتا ہے اور جہاں ایک عام آدمی کو ذرا سا کھٹکا رضی