خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 306 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 306

محفوظ طریق یہی ہو سکتا ہے کہ کوئی ایسا انتظام ہو کہ آپ ہی آپ ایسی غلطیاں درست ہوتی رہیں۔جس طرح آج کل ایک آلہ آٹو میٹک ایڈ جسٹر (Automatic Adjuster) ایجاد ہوا ہے جو ہوائی جہازوں میں لگایا جاتا ہے اور اس میں اگر کوئی معمولی نقص واقعہ ہو جائے تو وہ خود بخود اسے درست کر دیتا ہے۔ایک جہاز جب میں ہزار یا چالیس ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کر رہا ہو تو مشینری میں ذرا سا نقص بھی خطرناک نتائج کا موجب ہو سکتا ہے اور ایسی معمولی غلطیوں کا ہوا باز کی نظر سے اوجھل ہو جانا ممکن ہوتا ہے اس لئے ہوائی جہازوں میں ایسے آلے لگا دیئے جاتے ہیں کہ ایسی غلطیاں آپ ہی آپ درست ہوتی رہیں۔مثلاً اگر توازن قائم نہ رہے تو آٹو میٹک ایڈ جسٹر خود بخود اسے ٹھیک کر دے گا۔پس کوئی ایسا آٹو میٹک ایڈ جسر انسان کے لئے بھی ہونا ضروری ہے جو اس کی غلطیوں کو خود بخود درست کرتا رہے۔انسان سے ہر نیکی نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ میں غلطی کا امکان ہے اس لئے ان نیکیوں کو غلطی سے پاک رکھنے کے لئے ایسے انتظام کی ضرورت ہے۔ایک مرتبہ رسول کریم میں تو وہ لو جہاد پر تشریف لے گئے۔آپ کے ساتھ جو صحابہ تھے ان میں سے بعض روزہ دار تھے اور بعض نہیں تھے۔جب منزل پر پہنچے تو روزہ دار تو جا کر بستروں پر گر گئے اور جو لوگ روزہ سے نہیں تھے انہوں نے خیمے وغیرہ لگائے اور دوسرے ضروری انتظامات کئے۔رسول کریم میں لیا اور ہم نے فرمایا آج بے روز روزہ داروں سے بڑھ گئے ہیں۔بله دراصل وہ روزہ کا موقع ہی نہ تھا۔یہ نیکی تو تھی مگر بے موقع۔تو بسا اوقات انسان خیر خواہی اور نیک نیتی سے کوئی کام کرتا ہے مگر وہ بُرا ہو جاتا ہے۔ایک شخص کے پاس کوئی فقیر آتا ہے وہ اسے صدقہ دے دیتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ یہ جیسا کہ بیان کرتا ہے بھوکا ہے روٹی کھائے گا اور پیٹ بھرے گا مگر وہ سیدھا چند و خانہ 10 یا شراب خانہ میں پہنچتا ہے اور اس طرح وہ پیسے خرچ کرتا ہے۔اب اس نے تو نیکی کی تھی مگر اس نے اس کے دیئے ہوئے صدقہ کو بدی میں صرف کیا اور اس لئے یہ اگر اسے صدقہ نہ دیتا تو اچھا ہوتا۔اس نے تو رحم کر کے دیا مگر اس نے اس سے ایسا کام کیا جو ملک کے لئے یا قوم کے لئے یا دین کے لئے مضر تھا۔اگر اس نے اس سے شراب پی یا کنجر خانہ میں گیا تو دین اور دنیا کے لئے مُفتر فعل کا ارتکاب کیا۔یا اگر افیون کھائی تو اپنی صحت کے لئے اور قوم کے لئے میقتر حرکت کی۔ہزاروں افعال ایسے ہیں جو انسان کرتا تو نیک نیتی اور نیک ارادہ سے ہے مگر نتیجہ چونکہ اس کے اپنے اختیار میں نہیں