خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 308 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 308

۳۰۸ اپنی طرف متوجہ کر لیتا ہے ان کو زیادہ شور ہی متوجہ کر سکتا ہے مگر یہ کہ اثر ہو ہی نہیں یہ بات فطرت انسانی کے بالکل خلاف ہے۔انسان کی نیکی اس کی فطرت کو نہیں دبا سکتی۔نیکی کا یہ نتیجہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ انسان پانی پیئے اور پیاس نہ مجھے بلکہ نیک آدمی کی فطرت تو زیادہ چمک ہے۔دنیا میں ایسے لوگ ہیں جو سیر سیر بھر مٹھائیاں کھا جاتے ہیں اور ان کو پتہ بھی نہیں لگتا۔مگر انبیاء اور صلحاء ذرا ذرا سی چیز میں مزا محسوس کرتے ہیں اور تھوڑا سا کھا کر بھی ان کی زبان پر تسبیح جاری ہو جاتی ہے کیونکہ ان کے حواس زیادہ مکمل ہو چکے ہوتے ہیں۔پس انبیاء اولیاء و صلحاء کے متعلق یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ ان کی فطرت مسخ ہو چکی ہوتی ہے بلکہ ان کی فطرت تو زیادہ چمک جاتی ہے۔یہ خیال بالکل غلط ہے کہ ان کے احساسات نہیں ہوتے۔بے شک انہیں دوسروں سے امتیاز حاصل ہوتا ہے ان کی طبیعت آپ ہی آپ دوسری طرف مائل نہیں ہوتی اور دوسرے لوگوں کی آپ ہی آپ اور بلاوجہ دوسری طرف متوجہ ہو جاتی ہے مگر یہ کہ ان پر اثر ہوتا نہیں بالکل غلط ہے اثر ہر شخص پر ہوتا ہے۔تم کتنی احتیاط سے نماز پڑھو پاس کوئی ڈھول بجانے لگے یا بچہ شور مچانے لگے تو نماز میں نقص واقع ہو جائے گا اور یہ بات تمہارے اختیار کی نہیں اسی طرح روزہ میں بھی نقص کا پیدا ہو جانا ممکن ہے۔تم احتیاط روزہ رکھتے ہو مگر طبیعت تیز ہے کوئی شخص تم کو گالی دے دیتا ہے اور جواب میں تم بھی اسے گالی دے دیتے ہو اور اس سے روزہ میں نقص پیدا ہو جاتا ہے۔رسول کریم میلی یا ہم نے فرمایا ہے کہ روزہ کے صرف یہ معنی نہیں کہ دن بھر بھوکا پیاسا رہو بلکہ زبان اور دوسرے اعضاء کو بھی قابو میں رکھنا ضروری ہے۔۱۶ پس یہ بات بھی روزہ میں شامل ہے کہ اخلاق کو درست رکھا جائے زبان ، آنکھ ، ناک کان کو قابو میں رکھا جائے۔کوئی شخص اگر روزہ رکھے مگر لوگوں کو مارتا پیٹتا رہے، کسی کو گالیاں دے دوسروں کی چغلیاں سنتا رہے تو اس کا روزہ روزہ نہیں۔کلہ بے شک وہ زبان سے کھانے پینے کی کوئی چیز نہیں چکھتا مگر غیبت کا مزا ضرور چکھتا؟ ہے اور جس طرح روٹی منہ میں ڈال کر چبانے سے روزہ خراب ہو جاتا ہے اسی طرح اگر زبان کو غیبت میں استعمال کیا جائے تو روزہ خراب ہو جاتا ہے۔پس اول تو کسی کام کے لئے ایسی مفصل شرائط کا معلوم ہونا مشکل ہے جن پر عمل کرنے سے کوئی نقص اس میں واقع نہ ہو اور پھر ان کی پابندی کی کوشش کے باوجود نقص کے پیدا ہونے کے کئی بیرونی اسباب پیدا ہو جاتے ہیں اور انسان کے لئے محفوظ طریق یہی ہو سکتا ہے کہ کوئی آٹو میٹک ایڈ جسر ایسا ہو جو آپ ہی آپ