خطبات محمود (جلد 1) — Page 239
۳۳۹ چاہے کوئی شخص زربفت کے کپڑے پہنے ہوئے ہو اور خواہ وہ خالص سونے کے تاروں کے لباس میں ملبوس ہو لیکن اگر اس کے دل میں یہ خیال ہو کہ یہ غریب لوگ بھی میرے بھائی ہیں میں ان سے جدا نہیں ہوں اس کے دل میں ہر انسان کی محبت ہو ادنی بھی اس کی نظر میں اعلیٰ ہو ایسا انسان دنیا کے لئے راحت کا موجب ہو گا۔وہ یہ خیال نہیں کرے گا کہ غریب کے کپڑوں سے بو آتی ہے بلکہ یہ سمجھے گا کہ میرا بھائی غریب ہے میں اپنی دولت کو اس کی حالت اچھی کرنے پر صرف کروں۔اس کے متعلق غرباء میں یہ خیال نہیں ہو گا کہ یہ متکبر اور مغرور ہے بلکہ وہ سمجھیں گے کہ یہ ہمارا بھائی ہے جو اپنی اعلیٰ طرز زندگی کے باوجود ہم سے ملتا ہے اور ہماری خدمت کے لئے برابر تیار رہتا ہے تو اس وقت حقیقی عید قوم کے لئے ہوگی۔یہی عید کا مقام ہے جس طرح عید گاہ میں امیر غریب سب جمع ہو جاتے ہیں اس طرح یہ وہ مقام ہے جہاں انبیاء سب کو جمع کرنے کے لئے آتے ہیں اس کے سوا اور کوئی مقام نہیں جہاں امیر غریب مل سکیں ، جہاں مشرقی و مغربی جمع ہو سکیں، جہاں بوڑھے اور جو ان اکٹھے ہو سکیں، ایک مغربی شاعر نے کہا ہے EAST IS EAST AND WEST IS WEST AND NEVER THE TWIN SHALL MEET یعنی مشرق مشرق ہے اور مغرب مغرب اور کوئی تدبیر ایسی نہیں جو دونوں کو ملا سکے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ حقیقی امتیاز باتوں سے کبھی نہیں مٹتے۔بچہ اور بوڑھا کہاں جمع ہو سکتے ہیں۔وہ کونسا نقطہ ایسا ہو سکتا ہے جس پر امیر غریب مرد عورت جمع ہو جائے ، جہاں آقا غلام اکٹھے ہو سکیں۔اس نقشہ کو تلاش کئے بغیر اجتماع کی کوشش کرنا فضول ہے۔جس طرح یہ کہا جاتا ہے کہ امیر و غریب اکٹھے ہو جائیں اسی طرح یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ مرد و عورت بھی اکٹھے ہو جائیں۔مگر کیا یہ ممکن ہے جس طرح یہ ناممکن ہے کہ بچہ اور بوڑھا یکساں ہو جائیں مرد و عورت اکٹھے ہو جائیں اسی طرح یہ بھی ناممکن ہے کہ امیر و غریب کو اکٹھا کیا جاسکے جب تک کہ اس کے لئے کوئی نقطہ مرکز یہ ہم نہ نکالیں جس پر ایسا اجتماع ممکن ہو سکے۔یہ خیال کرنا کہ امیروں سے دولت وغیرہ چھین کر اسے غریبوں میں تقسیم کر دیا جائے اور اس طرح مساوات قائم کی جائے بالکل لغو بات ہے۔اس سے مساوات نہیں بلکہ بغض بڑھتا ہے اور ہر ایک طبقہ دوسرے کو مٹانے کی کوشش کرتا ہے جس سے فساد بڑھتا ہے۔اسی طرح مرد و عورت میں بھی