خطبات محمود (جلد 1) — Page 240
۲۴۳۰ اختلافات وسیع ہو رہے ہیں۔کسی جگہ عورتیں مردوں کے حقوق تلف کر رہی ہیں جیسے یورپ میں اور کسی جگہ مرد عورتوں کے حقوق دبا رہے ہیں جس طرح ایشیا میں اور کوئی چیز ان میں اتحاد پیدا نہیں کر سکتی۔اتحاد صرف اسی چیز سے ہو سکتا ہے جو انبیاء آکر لوگوں کے دلوں میں پیدا کرتے ہیں اور وہ اس اختلاف کو مٹا دیتے ہیں۔ایک نوجوان بوڑھے سے کیوں مختلف ہوتا ہے اسی لئے کہ ان کی طبیعتوں کے تقاضے مختلف ہوتے ہیں۔نوجوان ہلنا جلنا اور حرکت کرنا چاہتا ہے اور بوڑھا کہتا ہے ٹھہر جاؤ سوچ لیں۔مگر اسلام اس اختلاف کو مٹاتا ہے وہ ہر نوجوان سے کہتا ہے کہ بوڑھا بنے۔وہ اس کے اندر تبدیلی کر کے اسے اور بوڑھوں کو اکٹھا کرنا چاہتا ہے۔وہ چاہتا ہے کہ وہ وقار اور عقل سیکھے۔اسی طرح وہ ہر بوڑھے سے مطالبہ کرتا ہے کہ جوان بنے ست نہ ہو غافل نہ ہو۔اپنے آپ کو کبھی پینشن کے قابل نہ سمجھے اسلام میں پنشن کوئی نہیں وہ انسان کو آخری سانس تک کار آمد بنانا چاہتا ہے۔رسول کریم میں نے فرمایا ہے کہ جب تک غرغرہ نہ شروع ہو جائے انسان کی توبہ قبول ہو سکتی ہے۔وہ یعنی عمر کے آخری لمحات تک وہ خدا کے حضور قبول ہونے اور اس کی فوج میں داخل ہونے کے قابل ہے۔پس اسلام نوجوانوں سے کہتا ہے کہ بوڑھے بنو اور بوڑھوں سے کہتا ہے کہ جوان بنو۔اسی طرح اسلام چاہتا ہے کہ مرد عورت بن جائے اور عورت مرد اسی لئے قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ مومن کی مثال مریم کی سی ہے اور مومن عورت کی مثال عیسی علیہ السلام کی سی۔لاله پس اسلام عورت سے چاہتا ہے کہ مرد بنے اور مرد سے چاہتا ہے کہ عورت بنے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ اپنی جنس بدل دے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ بعض اخلاقی خوبیاں عورت میں ہوتی ہیں وہ مرد اپنے اندر پیدا کریں اور بعض مرد میں ہوتی ہیں وہ عورتیں پیدا کریں۔عورت میں جتنا استقلال ہوتا ہے وہ مرد میں نہیں ہوتا۔وہ سالہا سال تک ایک کام کرتی جاتی ہے مگر گھبراتی نہیں۔بچہ بیمار ہوتا ہے اور اس قدر لمبے عرصہ تک بیمار چلا جاتا ہے کہ مرد کو بھول جاتا ہے کہ اس کا بچہ بیمار ہے مگر عورت اس کی چارپائی کے پاس سے نہیں بنتی۔مرد میں استقلال بہت کم ہوتا ہے۔وہ بہت جلد گھبرا جاتا ہے۔بچہ ایسی ضد کرتا ہے کہ مرد کے پاس ہو تو اٹھا کر زمین پر دے مارے۔مگر ماں پھر بھی اسے پیار کرتی اور کہتی جاتی ہے میرے چاند میرے تارے۔بعض اوقات بچہ بیہودہ باتیں کرتا ہے۔مثلاً یہ کہ مجھے تارے اُتار دو۔ایسی بات پر مرد پہلے تو کہے گا کہ نہیں اُتارے جا سکتے اور بچہ بار بار کے گاتو اسے ایک تھپڑ مار دے گا اور اس پر بھی وہ اگر ضد سے باز نہ آئے تو۔