خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 238 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 238

۳۳۸ کیا ایک ضدی بیٹا اپنے نرم طبیعت رکھنے والے باپ کے لئے خطرہ کے وقت مصیبت برداشت نہیں کرتا۔وہی تر یا ہٹ سے کام لینے والی بیوی خاوند کی بیماری میں اپنے آپ کو قربان نہیں کر دیتی۔پھر کیا وہ خاوند جو حکومت کرتا ہے جب اس کی بیوی تکلیف میں ہو تو اپنا مال و جان قربان نہیں کر دیتا۔اس وقت یہ امتیاز کہاں جاتے ہیں۔پس صاف معلوم ہوا کہ یہ سب امتیاز ظاہری تھے ورنہ حقیقتاً ان میں پوری طرح مساوات قائم ہے۔آپ لوگوں نے تاریخ میں پڑھا ہوگا جب ہمایوں بیمار پڑا تو اگر چہ وہ بیٹا تھا اور عام قانون کے رو سے باپ کے ماتحت پھریوں بھی اس کا باپ بادشاہ اور حاکم تھا اور وہ ماتحت مگر دیکھو ان میں کیسی مساوات قائم تھی۔جب ہمایوں بیمار پڑا تو اس کا باپ جو بادشاہ تھا اس کی چارپائی کے گرد گھوم کر دعا کرتا ہے کہ اس کی بلا مجھے لگ جائے۔اور یہ دعا اس نے ایسے اخلاص سے کی کہ ادھر وہ دعا کر کے الگ ہوا ادھر اس کا نتیجہ ظاہر ہونے لگا۔حتی کہ ہمایوں اچھا ہو گیا اور وہ فوت ہو گیا۔اس وقت دیکھو ان میں جو امتیاز بظاہر نظر آتا تھا وہ کہاں گیا۔پس حقیقی مساوات قلوب کی ہوتی ہے ورنہ ظاہری اتحاد کوئی چیز ایک شخص زربفت کی قبا پہنے ہوئے ہے اور دوسرا کھنڈ ر وہ دونوں کس طرح مل سکتے جب ان کے دل نہیں ملتے تو وہ اگر چہ اکٹھے بیٹھ جائیں تو بھی اس سے کچھ فائدہ نہ ہو گا۔امیر دل میں کہے گا کہ کمبخت نے کیسے میلے کپڑے پہن رکھے تھے بد بو سے دماغ پھٹا جاتا ہے اور غریب اپنے دل میں بد دعائیں دے رہا ہو گا کہ خدا اس کا بیڑا غرق کرے کمبخت اپنے آپ کو فرعون سمجھتا ہے۔وہ ادھر تیوری چڑھا رہا ہو گا اور وہ اُدھر خفا ہو رہا ہو گا۔بتاؤ ایسے اکٹھے بیٹھنے کا کیا فائدہ اور کیا اس طرح مساوات قائم ہو سکتی ہے۔جس چیز سے مساوات پیدا ہوتی ہے وہ دل کا اتحاد ہے اور جب دل کا اتحاد ہو جائے تو ظاہر کے امتیازات خود بخود مٹ جاتے ہیں یا وہ کوئی اثر نہیں رکھتے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ بیوی اور خاوند باپ اور بچوں میں امتیازات ضرور ہوتے ہیں مگر چونکہ دلوں میں اتحاد ہوتا ہے اس لئے وہ کبھی اسے محسوس نہیں کرتے بلکہ بخوشی برداشت کرتے ہیں اور یہی وہ مساوات ہے جسے قائم کرنے کے لئے انبیاء آتے ہیں اور یہی ہے جس سے حقیقی عید پیدا ہو سکتی ہے اور جب تک یہ بات پیدا نہ ہو حقیقی مساوات کا مقصد پورا نہیں ہو سکتا۔ایک امیر آدمی اگر دکھاوے کے لئے یا ذاتی اغراض کے ماتحت غریبانہ طرز زندگی اختیار کر لیتا ہے اور اس کے لئے لباس اور غذا میں سادگی پیدا کرتا ہے مگر دل کا غریب نہیں تو وہ حقیقی مساوات پیدا نہیں کر سکے گا کیونکہ ایسی مساوات دل سے آتی ہے۔