خطبات محمود (جلد 1) — Page 237
۲۳۷ ہے اور کوئی نہیں کہہ سکتا یہ مختلف لوگ ہیں۔خاوند بیوی کے مقابل پر یا بیوی خاوند کے مقابل یا بچے ماں باپ کے مقابل پر بھی کوئی امتیاز محسوس نہیں کرتے حالانکہ بعض امتیازات ہوتے ضرور ہیں مگر پھر بھی ان کے دلوں میں امتیاز نہیں ہوتا۔انتظامی ضرورتوں کے لحاظ سے یا حالات کی بعض مجبوریوں کے باعث ظاہری طور پر ایک حد تک امتیاز ہوتا ہے مگر چونکہ باطن میں ان کے درمیان کوئی امتیاز نہیں ہوتا اس لئے اس وجہ سے کبھی کوئی جھگڑا پیدا نہیں ہوتا۔محبت کرنے والی بیوی کبھی یہ بات پسند نہیں کرتی کہ وہ اپنے خاوند کے حقوق تلف ہونے دے۔یا ہمدرد خاوند کبھی اس بات کا خیال بھی نہیں کرتا کہ اصرار اور محبت کے ساتھ مجھے اپنا ہم خیال بنالینے کی طاقت جو میری بیوی میں ہے میں اس کو کچل دوں۔بیٹے بھی یہ خیال نہیں کرتے کہ ہمارا باپ ہمیں کوئی ہدایت نہ دے اور باپ کبھی یہ نہیں چاہتا کہ میرے بیٹے ترقی نہ کریں اور نہ بڑھیں۔سوائے کسی پاگل کے کوئی شخص بھی ان امتیازات کو مٹانا نہیں چاہتا جو ایک خاندان کے مختلف ممبروں میں ہوتے ہیں بلکہ کوئی ان امتیازات کو محسوس بھی نہیں کرتا۔بیوی خاوند کی خدمت کرتی ہے اور اس میں لذت محسوس کرتی ہے اسی طرح اصرار سے یا روٹھ کر بھی بیوی اگر خاوند سے کوئی بات منوائے تو کیا خاوند اسے بُرا مناتا ہے بالکل نہیں کیونکہ یہ بھی محبت کا ایک طریق ہوتا ہے۔ایک سمجھدار بچہ ماں باپ کی اطاعت پر فخر کرتا ہے اور کبھی یہ نہیں سمجھتا کہ میں غلام ہوں بلکہ اپنے آپ کو خوش نصیب سمجھتا ہے کہ مجھے خدمت کا موقع ملا کیونکہ یہ ایک بہت بڑی سعادت ہے۔لوگ اس کے حاصل ہونے کے لئے دعائیں کراتے ہیں۔مجھے ہر روز اس قسم کے خطوط ملتے ہیں کہ دعا کیجئے اللہ تعالیٰ والدین کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔دیکھو یہ غلامی کتنی خوبصورت ہے۔یہ اگر مساوات کے خلاف ہوتی تو لوگ اس کے لئے دعائیں کیوں کراتے۔دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں جہاں کے رہنے والے یہ دعائیں کرتے ہوں کہ ہمارے ملک کی اپنی حکومت نہ رہے اور کوئی دوسرا ملک ہم پر حکمران ہو۔مگر اکثر لوگ یہ دعائیں کراتے ہیں کہ والدین کی غلامی کی توفیق مل جائے۔پس معلوم ہوا کہ ایسا امتیاز موجب برکت ہے اور اس میں حقیقی مساوات ہے دیکھو یہی حکم کرنے والا باپ یا خاوند یا محبت اور ضد سے اپنی بات منوانے والی بیوی تر یا ہٹ ، یا بالک ہٹ سکہ سے کام لینے والی عورت یا بچے جس وقت ایک دستر خوان پر جمع ہوتے ہیں تو کوئی ہے جو اس وقت ان میں فرق کر سکے۔جب بیٹا چھوٹا ہوتا ہے تکلیف میں مبتلاء ہو تو کیا باپ اس کے لئے جان نہیں دے دیتا۔