خطبات محمود (جلد 1) — Page 168
1 ۱۹۸ خوش ہوتے ہیں اور وہی روزہ جس کی وجہ سے بھوکا اور پیاسا رہنا پڑتا ہے خوشی سے رکھنا راحت کا موجب ہو جاتا ہے۔پس بظاہر انبیاء کی آمد سے ماننے والوں کے لئے مصیبتیں نازل ہوتی ہیں اور انہیں مال و جان عزت و آبرو وطن اور عزیز و اقارب ، دوست و احباب غرضیکہ ہر چیز کی قربانی کرنی پڑتی ہیں جو بظاہر ان کے لئے مصیبت ہوتی ہے۔۱۲ لیکن ان کے لئے یہ مصائب روزہ کے مصائب کی طرح ہوتے ہیں۔روزہ کے دنوں میں بھوک اور پیاس سے انسان کا جسم گھلا جاتا ہے مگر اس کی آنکھوں میں ہر روز عید کا چاند پھر رہا ہوتا ہے۔لیکن جن کے لئے روزہ خوشی کا موجب نہیں ہوتا، ان کے لئے رمضان قیامت کا نظارہ ہوتا ہے۔پس یہ نیت اور ارادہ کی بات ہے۔جسے انسان خوشی سمجھتا ہے وہ اس کے لئے عید ہوتی ہے اور جسے بُرا سمجھتا ہے وہ مصیبت ہے۔ہماری جماعت کو بھی جس نے اس زمانہ کے مامور کو قبول کیا ہے قربانیوں کو اسی رنگ میں دیکھنا چاہئے جس طرح رمضان کے روزے ہوتے ہیں۔جس طرح رمضان کے روزے مصیبت نہیں سمجھے جاتے بلکہ ان میں لذت محسوس ہوتی ہے بعینہ اسی طرح دین کی اشاعت اور خدمت اسلام کے لئے جو قربانیاں ہمیں کرنی پڑیں ان میں لذت محسوس کرنی چاہئے اور سمجھ لینا چاہئے کہ یہ مصائب روزہ یا حج کی طرح ہیں اور ان کے نتیجہ میں عید آئے گی اور اگر دنیا میں عید نہ آئی تو شہادت نصیب ہوگی اور وہ بھی عید ہے۔جو اس دنیا میں ہو گا وہ عید کے اس چاند کو دیکھے گا اور جو مر گیا وہ اس حقیقی چاند کا منہ دیکھ سکے گا جس کی خواہش میں لوگ اس چاند کو دیکھا کرتے ہیں اس لئے اس سے بڑھ کر وہ عید ہے۔پس مومنوں کو قربانی سے کبھی گھبرانا نہ چاہئے کیونکہ قربانیاں تباہی کا نہیں بلکہ آئندہ ترقیات کا موجب ہوتی ہیں لیکن یہ قربانیاں دنیا یا کسی انسان کے لئے نہیں ہونی چاہئیں اور نہ اس خیال سے ہونی چاہئیں کہ لوگ ہماری ان قربانیوں کو دیکھیں اور تعریف کریں کیونکہ دین کے لئے قربانیوں کا کوئی شخص بدلہ نہیں دے سکتا بلکہ جو شخص یہ خیال بھی کرتا ہے اور کسی انسان سے دین کے لئے قربانیوں کے بدلہ کی امید بھی رکھتا ہے خواہ وہ انسان نبی یا اس کا خلیفہ ہی کیوں نہ ہو وہ اپنی قربانیوں کو ضائع کرتا ہے۔یاد رکھنا چاہئے دین کے لئے قربانیاں اتنی عظیم الشان چیز ہے کہ ان کا بدلہ خدا تعالیٰ کے سوا کوئی دے ہی نہیں سکتا اور جو سمجھتا ہے ایسی قربانیوں کا بدلہ کوئی انسان بھی دے سکتا ہے وہ ایسی قربانیوں کی حقیقت کو ہی نہیں سمجھتا اور وہ اپنے ساتھ اس شخص کی بھی تذلیل کرتا ہے جس سے ایسے بدلہ